اس کو واحد لاشریک جانتا ہے اور اُس کی خوبیوں اور اخلاق کا عاشق ہو جاتا ہے اور گو محبت الٰہی کا تخم ازل سے انسان کی سرشت میں رکھا گیا تھا مگر اس تخم کی آب پاشی معرفت ہی کرتی ہے کیونکہ کوئی محبوب بجز معرفت کے اور بجز تجلّیاتِ حسن اور جمال اور اخلاق اور وصال کے کسی عاشق کو اپنی طرف کھینچ نہیں سکتا۔ اور جب معرفت تامّہ حاصل ہو جاتی ہے تبھی وہ وقت آتا ہے کہ محبت الٰہی کا ایک چمکتا ہوا شعلہ انسان کے دل پر گرتا ہے اور یکدفعہ اس کو خداؔ تعالیٰ کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ تب انسانی رُوح محبوبِ ازلی کے آستانہ پر عاشقانہ انکسار کے ساتھ گِرتی ہے اور حضرتِ احدیت کے دریائے ناپیدا کنار میں غوطہ لگا کر ایسی پاک و صاف ہو جاتی ہے کہ تمام سفلی کثافتیں دُور ہو جاتی ہیں اور ایک نورانی تبدیلی اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ تب وہ رُوح ناپاک باتوں سے ایسی نفرت کرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ کو نفرت ہے اور خدا کی رضا اس کی رضا ہو جاتی ہے اور خدا کی خوشنودی اس کی خوشنودی ہو جاتی ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں اس اعلیٰ درجہ کی محبت کے جوش مارنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سالک جو خدا تعالیٰ کی طلب میں ہے خدا کے حسن اور احسان پر بخوبی اطلاع پاوے۔ اور درحقیقت اس کے دل میں ذہن نشین ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات میں وہ خوبیاں اور حسن اور جمال رکھتا ہے کہ جن کی کوئی انتہا نہیں۔ اور ایسا ہی اس قدر اس کے احسان ہیں اور اس قدر احسان کرنے کے لئے وہ طیار ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کامل معرفت کا سامان اس اُمّتؔ کو کامل طور پر
برکت سے ہم وحی الٰہی پاتے ہیں اور اس کی برکت سے بڑے بڑے نشان ہم سے ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام مذہب مر گئے ان میں کچھ بھی برکت اور روشنی نہیں۔ ان کے ذریعہ سے ہم خدا کے ساتھ گفتگو نہیں کر سکتے۔ ان کے ذریعہ سے ہم خدا کے معجزانہ کام نہیں دیکھ سکتے۔ کوئی ہے!! جو ان برکات میں ہمارا مقابلہ کرے۔ منہ