ہوتا ؔ ہے مگر کبھی مدتوں اور برسوں کے بعد ایک قسم کی نبات اس میں پیدا ہوجاتی ہے جو نہایت شیریں اور لذیذ ہوتی ہے اب جس شخص نے اس نبات کو کبھی نہ دیکھا ہو اور معمولی قدیمی تلخی کو دیکھتا آیا ہو بے شک وہ اس نبات کو ایک امر طبعی کی نقیض سمجھے گا ایسا ہی بعض دوسری نوع کی چیزوں میں بھی دور دراز عرصہ کے بعد کوئی نہ کوئی خاصہ نادر ظہور میں آجاتا ہے کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ مظفر ؔ گڈھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڈھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے روبرو منگوایا چنانچہ وہ بکرا جب ان کے روبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا۔ تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ یہ ہے۔
مظفر گڈھ جہاں پر ہے مکالف صاحب عالی یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے
اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوںں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ ہی سے پرورش پایا تھا کیونکہ اس کی ماں مرگئی تھی۔ ایسا ہی بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ کبھی ریشم کے کیڑے کی مادہ بے نر کے انڈے دے دیتی ہے اور ان میں سے بچے نکلتے ہیں۔ بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو مٹی تھی اور آدھا چوہا بن گیا۔ حکیم فاضل قرشی یا شاید علامہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک بیمار ہم نے دیکھا جس کا کان ماؤف ہوکر بہرہ ہوگیا تھا پھر کان کے نیچے ایک ناسور سا پیدا ہوگیا جو آخر وہ سوراخ سے ہوگئے اس سوراخ کی راہ سے وہ برابر سن لیتا تھا گویا خدا نے اس کے لئے دوسرا کان عطا کیا۔ ان دونوں طبیبوں میں سے ایک نے اور غالباً قرشی نے خود اپنی اڈّی میں سوراخ ہوکر اور پھر اس راہ سے مدت تک براز یعنے پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔ جالینوس سے سوال کیا گیا کہ کیا انسان آنکھوں