خداؔ ئے تعالیٰ کا قانون قدرت رکھیں مگر ان کے مقلد بباعث اپنی خامی اور ناتمامی کے سخت درجہ پر قانونِ قدرت کے قائل بلکہ غلام پائے جاتے ہیں سو یہ اسی مثل کا مصداق ہے کہ در پدر شیرینی بسیاراست لیکن پسر گرمی داراست۔ بالخصوص اس زمانہ کے نوآموز لڑکوں میں قانونِ قدرت کا خیال واجبی حد سے بڑھ گیا ہے اکثر نامقید اور آوارہ طبع اور ملحدانہ طبیعت کے آدمی ان کم فہم لڑکوں کو بگاڑتے جاتے ہیں جن کی نادانی اور سادہ لوحی رحم کے لائق ہے۔ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر خواص قدرتیہ کا خاتمہ ہوچکا ہے تو اس کا یہ لازمی نتیجہ ہونا چاہئے کہ آئندہ خواص جدیدہ ظہور میں نہ آویں۔ اور اگر ابھی خاتمہ نہیں ہوا اور نئے انکشافات اور تازہ معلومات کے کھلنے کی امید ہے تو پھر کیوں ایک نئی بات کو سنتے ہی بکری کی طرح انکار میں گردن ہلادیں خدا نے ان کو یہ سمجھ نہیں دی کہ عجائبات الٰہی کا میدان جو رنگا رنگ اور بے انتہا چشموں اور کہولوں اور آبشاروں سے آبپاشی پودہ نفس ناطقہ انسان کے لئے ُ پر ہے وہ کیونکر تجارب محدودہ کی ظرف تنگ میں سماسکتا ہے اور اگر ایسا فرض بھی کرلیا جائے کہ خدائے تعالیٰ کی قدرتیں اسی حد تک ختم اور خرچ ہوچکی ہیں جو ہمیں معلوم ہے تو پھر اس سے کیونکر خدائے تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی قدرتوں اور اپنی حکمتوں میں بے انتہا ہونا قائم رہ سکتا ہے اس کی غیر محدود حکمتوں اور قدرتوں کو سمجھنے کے لئے یہی ایک تو راہ ہے کہ ایک ذرّہ کے موافق بھی اگر کوئی چیز ہو تو اس پر اگر تمام انسانی عقلیں قیامت تک غور کریں تو اس کے عجائبات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں کیا جس نے یہ پُر بہار آسمان جو مہر و ماہ اور ستاروں کے چراغوں سے سج رہا ہے اور یہ رشک گلزار زمین جو رنگا رنگ مخلوقات سے آباد ہورہی ہے بغیر ایک ذرّہ مشقت اٹھانے کے صرف اپنے ارادہ سے پیدا کردیا اس کی قدرتوں کا کوئی انتہا پاسکتا ہے۔ اور یہ بات نہایت ظاہروبدیہی ہے کہ جب تک علوم و خواص جدیدۃ الظہور کی اس عالم بے ثبات کے ساتھ دُم لگی ہوئی ہے تب تک کوئی دانا اپنے معلومات محدودہ و معدودہ کو قانونِ قدرت کے نام سے موسوم نہیں کرسکتا اور خود ہمیں اپنی اس غیر مستقل اور اوباشانہ عادت سے شرمندہ ہونا چاہئے کہ اول ہم کسی بات کے عدم امکان پر ایسا سخت اصرار کریں کہ گویا خدائے تعالیٰ کو اس کی خدائی کے