غرض ؔ یہ خیال ہندوؤں میں بھی پرانا چلا آتا ہے یہاں تک کہ رگ وید میں لکھا ہے کہ ایک نیک بخت رشی کی لڑکی کو فقط اندر دیوتا کی ہی توجہ سے حمل ہوگیا تھا اور ایسا ہی شمس و قمر سے بھی شرفا آریہ کی پاکدامن لڑکیوں کو حمل ہوتا رہا ہے۔ اب ان قصوں اور کہانیوں کو جو بہ کثرت مختلف قوموں میں پائی جاتی ہیں یکمرتبہ مردود اور باطل سمجھ کر پایۂ اعتبار سے ساقط کردینا حکیمانہ طریق نہیں ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ اگر ان قصوں کو ان کے زوائد سے الگ کرکے دیکھا جائے تو ان کے نیچے وہی ایک دقیق خاصہ علم طبعی کا چھپا ہوا نظر آتا ہے جس کی طرف علامہ نے اشارہ کیا ہے اور اس بات پر ضد نہیں کرنی چاہئے کہ اگر یہ بات کچھ حقیقت رکھتی ہے تو پھر عام طور پر کیوں وقوع میں نہیں آتی کیونکہ اول تو یہ سوانح ایسے نادر الوقوع نہیں ہیں جیسے آج کل کے نئے فلسفی ان کو خیال کررہے ہیں بلکہ مختلف قوموں میں اس کے آثار سلسلہ وار چلے آئے ہیں۔ اگرچہ عبرانیوں میں تو صرف حضرت مسیح اس طرز کی پیدائش میں بیان کئے گئے ہیں لیکن یونانیوں اور آریوں کی کتابوں میں اس کی نظیریں بہت پائی جاتی ہیں اور حال کے زمانہ اور اس کے قریب قریب بھی بعض ممالک کی عورتیں حمل دار ہوکر ایسا کچھ بیان کرتی رہی ہیں اب ان سب قصوں کی نسبت گو کسی منکر کی کیسی ہی رائے ہو مگر صرف ان کے نادر الوقوع ہونے کی وجہ سے وہ سب کی سب رد نہیں کی جاسکتیں اور ان کے ابطال پر کوئی دلیل فلسفی قائم نہیں ہوسکتی بلکہ اکثر یونانی فلسفی (آسمانوں کے ماننے والے) اور انہیں میں سے افلاطوؔ ن اور ارسطوؔ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ حادث چیزوں کی مبادی آسمانوں کی حرکتیں اور ان کے مختلف دورے ہیں۔ اسی جہت سے علوی اور سفلی چیزوں کے حکم اور حال مختلف ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے مذہب کے رو سے ممکن ہے کہ ایک دور میں ایسی عجائب چیزیں یا عجائب شکلوں کے جانور پیدا ہوں کہ نہ تو دور سابق میں اور نہ دور لاحق میں ان کی نظیر پائی جائے غرض نادر الظہور اشیاء کا سلسلہ اس وضع عالم کو لازمی پڑا ہوا ہے۔ اور علامہ موصوف نے اس مقام میں ایک تقریر بہت ہی عمدہ لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ سب انسان ایک نوع میں ہونے کی وجہ سے باہم مناسب الطبع واقعہ ہیں مگر پھر بھی ان