آسمانؔ میں یا زمین میں ظاہر ہوتے ہیں جو بڑے بڑے فیلسوفوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں اور پھر فلسفی لوگ ان کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ اور متندم ہوکر کچھ نہ کچھ تکلّفات کرکے طبعی یا ہیئت میں ان کو گھسیڑ دیتے ہیں تا ان کے قانون قدرت میں کچھ فرق نہ آجائے ایسا ہی یہ لوگ اِدھر کی اُدھر لگا کر اور نئی باتوں کو کسی علمی قاعدہ میں جبراً دھنسا کر گزارہ کرلیتے ہیں جب تک پردار مچھلی نہیں دیکھی گئی تھی تب تک کوئی فلسفی اس کا قائل نہ تھا اور جب تک متواتر دم کے کٹنے سے دم کٹے کتے پیدا نہ ہونے لگے تب تک اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے کوئی ایسی آگ نہ نکلی کہ وہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی مگر لکڑی کو جلا نہیں سکتی تھی تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا خلاف قانون قدرت سمجھتے رہے جب تک اسپی ریٹر کا آلہ نہیں نکلا تھا کس فلسفی کو معلوم تھا کہ عمل ٹرینس فیوژن آف بلڈ (یعنے ایک انسان کا خون دوسرے انسان میں داخل کرنا) قانون فطرت میں داخل ہے۔ بھلا اس فلاسفر کا نام لینا چاہئے جو الیکٹرک مشین یعنی بجلی کی کل نکلنے سے پہلے اس بجلی لگانے کے عمل کا قائل تھا۔ فلسفی را چشم حق بین سخت نابینا بود گرچہ بیکن باشد ویا بو علی سینا بود یہ ثابت ہوچکا ہے اور ہمیشہ مشاہدہ میں آتا ہے کہ جو لوگ خواہ نخواہ قانونِ قدرت کے پابند کہلاتے ہیں وہ اپنی رائے میں بہت کچے ہوتے ہیں اگر دس بیس معتبر اور پختہ عقلمند اور ان کے ہم رتبہ آدمی کوئی عجیب بات ہنسی کے طور پر بھی بیان کردیں مثلاً یہ کہہ دیں کہ ہم ایک پردار آدمی کو بچشم خود دیکھ آئے ہیں یا ایک پتھر میں سے شہد مترشح ہوتا ہم نے دیکھا کیا بلکہ کھایا ہے یا آسمان سے ہم نے پھول برستے دیکھے اور پھولوں میں سے سونا نکلا یا شاید کوئی واقعہ صحیحہ ہی پیش آوے جیسے آج کل کے بعض اخباروں میں شائع کیا گیا ہے کہ یورپ کے ایک ملک میں ایک پتھر تیس من وزنی برسا جس میں ہڈیاں بھی ملی ہوئی ہیں شاید ان کی ہڈیاں ہیں جو چاند کے کمرہ میں رہنے والے ہیں تو فی الفور فلاسفر صاحب کے دل میں ایک دھڑکا سا