نہیںؔ چھوڑا اور نہ ایسا بھروسہ ان پر کرنا عقلمندی ہے۔ خواص جدید الظہور کا ایک عجیب کرشمہ ہے جو ہمیشہ قیاسی علوم کی بربادی اور بے عزتی کرتا رہا ہے اور کرے گا اور جس طرح ہمارے زمانہ نے ایسے علوم جدید ہ پائے جن سے پہلے لوگ بے خبری میں گزر گئے یا باطل کو حق کہتے سو گئے ایسا ہی ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ آنے والی ذریت اس زمانہ کی غلطیاں نکالے اور وہ باتیں ان پر ظاہر ہوں جو اس زمانہ پر ظاہر نہیں ہوئیں آسمان تو آسمان ہے زمین کے خواص جاننے سے ابھی کب فراغت ہوچکی ہے۔
تو کارِ زمین رانکو ساختی
کہ با آسمان نیز پرداختی
غرض علوم جدیدہ کا سلسلہ منقطع ہونا نظرنہیں آتا شق القمر کے ایک تاریخی واقعہ سے کیوں اتنا نفرت یا تعجب کرو۔ گزشتہ دنوں میں تو جس کو کچھ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ایک یورپین فلاسفر کو سورج کے ٹوٹنے کی ہی فکر پڑگئی تھی پھر شاید شگاف ہوکر مل گیا۔ فلاسفروں کو ابھی بہت کچھ سمجھنا اور معلوم کرنا باقی ہے۔ کے آمدی کے پیر شدی۔ ابھی تو نام خدا ہے غنچہ صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہریک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیرمتناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہوسکتے گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لئے تمام فلاسفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قوتیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہرگز باور نہیں کرسکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کرلیں سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہوچکے ہیں اسی قدر پر ختم ہیں اس سے زیادہ کوئی بے سمجھی کی بات نہیں۔
اب خلاصہ اس تمام مقدمہ کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہرسکے کیونکہ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کے ان افعال سے مراد ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے یا آئندہ آئیں گے لیکن چونکہ ابھی خدائے تعالیٰ اپنی قدرتوں کے دکھلانے سے تھک نہیں گیا ہے اور نہ یہ کہ اب قدرت نمائی سے بے زور ہوگیا ہے یا سو گیا ہے یا کسی طرف کو