جلّؔ شَانہٗ ہوجاتا ہے اور بعد اس کے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں مرتبہ ایقان ہے اور پھر اس کے بعد مرتبہ عرفان کا ہے یعنے جبکہ بندہ ایسی باتوں کو مان لیتا ہے جن کو اس کی عقل امکان یا جواز یا وجوب کی صورت میں قبول توکرلیتی ہے مگر انکشاف کلّی کے طور پر ان پر احاطہ نہیں کرسکتے تو خدائے تعالیٰ کی نظر میں وہ شخص صادق ٹھہر جاتا ہے اور حضرت خداوند کریم عزّ اسمہٗ بہ برکت اس ایمان کے عرفان کا مرتبہ اس کو عطا کردیتا ہے یعنی اپنی طرف سے علم و معرفت و سکینت اس پر نازل کرتا ہے اور کشفی اور الہامی نوروں سے وہ بقیّہ ظلمت بھی اٹھا دیتا ہے جس کے اٹھانے سے عقل دود آمیز عاجز رہ گئی تھی اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے جیسے انسان کی فطرت میں مبادی امور کے کسی قدر سمجھنے ظاہرؔ کی کہ ہم کوئی ثبوت قابل اطمینان اس بات پر نہیں دیکھتے کہ بعد مرنے کے روح باقی رہ جاتی ہے نہ کوئی روح نظر آتی ہے اور نہ واپس آکر کچھ اپنا قصہ سناتی ہے بلکہ سب روحیں مفارقت بدن کے بعد خدا اور فرشتوں کی طرح بے اثر و بے نشان ہیں سو ان کا بھی وجود ماننا خلاف دلیل و برہان ہے۔ ان سب فیصلوں کے بعد ان کی نظر عمیق نے تکالیف شرعیہ کی مشقت اور حلال حرام کا فرق اصول فلسفہ کا سخت مخالف سمجھا۔ اس لئے انہوں نے صاف صاف اپنی رائے ظاہر کردی کہ ماں اور بہن اور جورو میں فرق کرنا یا اور چیزوں میں سے بلاثبوت ضرر طبی بعض چیزوں کو حرام سمجھ لینا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جن پر کوئی فلسفی دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ننگا رہنے میں کوئی شناعت عقلی ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس میں طبی قواعد کے رو سے فوائد ہیں۔ اسی طرح ان فلاسفروں کے اور بھی مسائل ہیں۔ اور خلاصہ ان کے مذہب کا یہی ہے کہ وہ بجز دلائل قطعیہ عقلیہ کے کسی چیز کو نہیں مانتے اور ان کی فلسفیانہ نگاہ میں گو کیسی کوئی بدعملی ہو جب تک براہین قطعیہ فلسفیہ سے اس کا بدہونا ثابت نہ ہولے یعنے جب تک اس میں کوئی طبی ضرر یا دنیوی بدانتظامی متصور