چاہتاہے کہ جو کچھ کھلنا ہے وہ عقلی مرتبہ پر ہی کھل جائے اور نہیں جانتا کہ عقل انسانی اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ طاقت سے آگے قدم رکھ سکتی ہے اور نہ اس بات کی طرف فکر دوڑاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جوہرِ عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوّت بھی اس کی فطرت میں رکھی ہے سو جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے وسائل خداشناسی انسان کی سرشت کو عطا کئے ہیں۔ ان وسائل میں سے صرف ایک ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کے وسیلہ کو استعمال میں لانا اور باقی وسائل خداشناسی سے بکلّی بے خبر رہنا بڑی بھاری بدنصیبی ہے اور ان قوتوں کو ہمیشہ بیکار رکھ کر ضائع کردینا اور ان سے فائدہ نہ اٹھانا پرلے درجہ کی بے سمجھی ہے سو ایسا شخص سچا فلسفی ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جو کشف اور الہام پانے کی قوت کو معطل اور بیکار چھوڑتا ہے بلکہ اس سے انکار کرتا ہے حالانکہ ہزاروں مقدسوں کی شہادت سے کشف اور الہام کا پایا جانا بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے اور تمام سچے عارف اسی طریق سے معرفت کاملہ تک جوؔ باقی رہ گئے ہیں ان کے خیالات سے وہ سب نکل جائیں گے اور عقائد اور اعمال میں پوری پوری مطابقت اپنے بڑے بھائیوں سے کرلیں گے تب وہ شیطانی اور ظلمانی دو کالے پانی دنیا کے برباد کرنے کے لئے ایک ہی ہوکر بہیں گے اور اگر آئندہ ذرّیت میں فلسفہ نے ترقی کی تو وہ بجائے اس کے کہ حال کے فلسفیوں کی طرح یہ سوال کریں کہ اگر ملائک یا شیاطین کچھ چیز ہیں تو ہمیں دکھلاؤ یہ اعلیٰ درجہ کے سوالات کریں گے کہ اگرخدا اور اس کی قدرتیں کچھ چیز ہیں تو ہمیں ظاہر ظاہر بلاواسطہ اسباب دکھاؤ اور اگر روحیں بعد مفارقت بدن باقی رہ جاتی ہیں اور ان کا وجود بھی کچھ چیز ہے تو وہ بھی ہمیں دکھلاؤ غرض جیسے جیسے ان نوآموزوں کے فلسفہ میں صیقل ہوتا جائے گا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ سوال ان کے دلوں میں پیدا ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ اول درجہ کے فلاسفروں سے ہاتھ جا ملائیں گے۔ ابھی تو حال کچا اور خیال بھی کچا ہے۔ منہ۔