بلکہؔ انسانی ظلمت یا شیطانی رعونت کی ایک تاریکی ہے کیونکہ اگر ایسا ہی ہوتا اور مذہب کے تمام اجزاء اور جو کچھ اس میں بھرا ہوا ہے پہلے ہی سے اظہر من الشمس اور بدیہی اور بیّن الانکشاف ہوتے یا اشکال ہندسی اور حساب کے اعمال کی طرح قطعی الثبوت دکھائی دیتے تو پھر اس حالت میں ایمان ایمان نہ رہتا اور جو ایمان لانے پر ثواب اور سعادتیں اور برکتیں مترتب ہوتی ہیں ان کو انسان ہرگز نہ پاسکتا کیونکہ ظاہر ہے کہ بیّن الحقیقت اور ظاہر الوجود باتوں کو مان لینا ایمان نہیں ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں اس بات پر ایمان لایا کہ پانی سرد اور آگ گرم ہے اور ہر ایک انسان آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا اور مونہہ سے کھاتا اور پاؤں سے چلتا ہے اور میں اس ریاؔ ضات و تزکیہ و تصفیہ نفس ملتا ہے پہلے نہیں اور جو شخص پہلے ہی تمام جزئیات کی بکلی صفائی کرنا چاہتا ہے اور قبل از صفائی اپنے بدعقائد اور بداعمال کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا وہ اس ثواب اور اس راہ کے پانے سے محروم ہے کیونکہ ایمان اسی حد تک ایمان ہے جب تک وہ امور جن کو مانا گیا ہے کسی قدر پردۂ غیب میں ہیں یعنی ایسی حالت پر واقعہ ہیں جو ابھی تک عقلی ثبوت نے ان پر احاطہ تام نہیں کیا اور نہ کسی کشفی طور پر وہ نظر آئی بلکہ ان کا ثبوت صرف غلبۂ ظن تک پہنچا ہے وبس۔ یہ تو انبیا کا سچا فلسفہ ہے جس پر قدم مارنے سے کروڑہا بندگان خدا آسمانی برکتیں پاچکے ہیں اور جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے بے شمار خلق اللہ معرفت تامہ کے درجہ تک پہنچ چکی ہیں اور ہمیشہ پہنچتی ہیں اور جن اعلیٰ درجہ کے تعینیوں کو شوخی اور جلدی سے فلسفی لوگوں نے ڈھونڈہا اور نہ پایا وہ سب مراتب ان ایماندار بندوں کو بڑی آسانی سے مل گئے اور اس سے بھی بڑھ کر اس میں معرفت تامہ کے درجہ تک پہنچ گئے کہ جو کسی فلسفی کے کانوں نے اس کو نہیں سنا۔