باطل کا بکمال صفائی فیصلہ ہوجاتا اور فلسفہ کی نکمی اور بودی اور ظنی اور وہمی دلائل کی کچھ حاجت نہ رہتی تو اس کا جواب یہی ہے کہ جو اوپر گزر چکا یعنے بے شبہ خدائے تعالیٰ ایسا کرسکتا تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسا جلوۂ دیدار دکھا سکتا تھا کہ ایک ہی تجلی سے سب گردنیں جھک جاتیں اور ایک ہی دفعہ تمام دنیا کی دینی نزاعوں کا تصفیہ ہوجاتا لیکن ایسا کرنے میں وہ بات جس سے ثواب ملتا ہے اور صادقوں کو مراتب عالیہ اور قرب اور وجاہت عطا کی جاتی ہے وہ باقی نہ رہتی یعنی ایمان بالغیب جس کی وجہ سے درجات اخروی ملتے ہیں وہ اپنی صورت میں محفوظ نہ رہتا۔ سو یہ بڑے بھاری درجہ کی صداقت ہے جو سوال مذکورہ بالا پر غور کرنے سے ہر یک اعلیٰ و ادنیٰ کو سمجھ آسکتی ہے۔ غرض ایمان پر ثواب اور اجر ملنے کا یہی بھید ہے کہ جن چیزوں پر ایمان لایا جاتا ہے وہ اگرچہ غور اور نظر کرنے سے صحیح اور راست ہیں۔ لیکن ان کا ثبوت ایسا کھلا کھلا ثبوت نہیں ہے جیسے اور مشہودات اور محسوسات کا ہوا کرتا ہے بلکہ ایمان بالغیب کی حد میں ہیں سو صادق آدمی جب خدا اور اس کی سزا وجزا وغیرہ امور غیبیہ پر ایمان لاتا ہے تو اس ایمان میں بوجہ انواع اقسام کے اوہام اور نفس امارہ کی چار طرفہ کشاکش کی سخت آزمائش میں پڑتا ہے۔ آخر چونکہ وہ صادق ہوتا ہے اس لئے سب راہیں چھوڑ کر اور سب خیالات پر غالب آکر اسی رب رحیم کی راہ اختیار کرلیتا ہے اور اس صدق کی برکت سے کہ وہ اپنے علم سے زیادہ رجوع اور اپنی واقفیت سے زیادہ وفا اور اپنے تجربہ سے زیادہ استحکام اختیار کرتا ہے۔ جناب الٰہی میں قبول کیا جاتا ہے۔ اور پھر اسی صدق و صفا کی برکت سے عرفانی آنکھیں اس کو عنایت ہوتی ہیں اور ربانی لذت اور محبت اس کو عطا کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس مرتبہ تک جا پہنچتا ہے جہاں تک انسانی کمالات ختم ہوجاتے ہیں مگر یہ سب کچھ کامل طور پر پیچھے سے ملتا ہے پہلے نہیں۔ یہ تو معرفت صحیحہ تک پہنچنے کے لئے سنت اللہ یا یوں کہو کہ قانون قدرت ہے لیکن اس زمانہ کے خشک فلسفیوں نے اس صداقت پر ایک ذرّہ اطلاع نہیں پائی* اور وہ بالکل اس بات سے بے خبر ہیں کہ کیونکر انسان
* حاشیہ جاننا ؔ چاہئے کہ خدائے تعالیٰ اور عالم مجازات اور دیگر امور مبدء اور معاد کے ماننے میں