دلؔ پر بکلی احاطہ کرکے ہریک ظلمت و قبض و تنگی کو درمیان سے اٹھاویں یہاں تک کہ بوجۂ کمال رابطہ عشق و محبت و بباعث انتہائی جوش صدق و صفا کی بلا اور مصیبت بھی محسوس اللذت و مدرک الحلاوت ہو تو اس درجہ کا نام اطمینان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور طرؔ یقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا اور چوری اور قزاقی اور خون ریزی اور دختر کشی اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگانہ حقوق دبا لینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا۔ غرض ہریک طرح کی ُ بری حالت اور ہریک نوع کا اندھیرا اور ہرقسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہور ہ ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشرطیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کرسکتا اور پھر یہ امر بھی ہریک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یا وہ اور ناپارسا طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہوگئے اور کیونکر تاثیرات کلام الٰہی اور صحبت نبی معصوم ؐ نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکلخت ایسا مبدل کردیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہوگئے اور محبت دنیا کے بعد الٰہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں اپنے مالوں اپنے عزیزوں اپنی عزتوں اپنی جان کے آراموں کو اللہ جل شانہٗ کے راضی کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ چنانچہ یہ دونوں سلسلے ان کی پہلی حالت اور اس نئی زندگی کے جو بعد اسلام انہیں نصیب ہوئے قرآن شریف میں ایسی صفائی سے درج ہیں کہ ایک صالح اور نیک دل آدمی پڑھنے کے وقت بے اختیار چشم پُرآب ہوجاتا ہے۔ پس وہ کیا چیز تھی جو ان کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی وہ دو ہی باتیں تھیں ایک یہ کہ وہ نبی معصومؐ اپنی قوتِ قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔ دوسری خدائے قادر مطلق حیّ قیوم کے پاک کلام کی زبردست اور عجیب