اورؔ نہایت واشگاف ثبوت مانگتا ہے اس کی طبیعت کو اس راہ سے کچھ مناسبت نہیں اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس قادر غنی بے نیاز کے فیوض حاصل کرے۔ عادت اللہ قدیم سے اسی طرح پر جاری ہے اور یہ اس فن علم الٰہی کا نہایت باریک نکتہ ہے جس پر سعادت مندوں کو
لاکھوؔ ں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الٰہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولیٰ کریم سے ہوجاتا ہے خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مونہہ سے نکلتے ہی ایک قوی توکل ا ن کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الٰہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے اگر ان کے وجودوں کو ہاون مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز ُ حب الٰہی کے اور کچھ نہیں۔ دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور تر و بلند تر ہیں۔ خدا کے معاملات ان سے خارق عادت ہیں انہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خدا ہے۔ انہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی سنتا ہے۔ جب وہ پکارتے ہیں تو وہ انہیں جواب دیتا ہے جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ ان کی طرف دوڑتا ہے وہ باپوں سے زیادہ ان سے پیار کرتا ہے اور ان کی درودیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے پس وہ اس کی ظاہری و باطنی و روحانی و جسمانی تائیدوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ ہریک میدان میں ان کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے اور وہ ان کا ہے۔ یہ باتیں بلا ثبوت نہیں اور ہم عنقریب رسالہ سراج منیر میں انشاء اللہ القدیر ایک کھلا کھلا ثبوت اس کا دکھلائیں گے۔ لیکن ہم اس جگہ یہ ظاہر کرنا چاہئے۱ کہ کسی دوسرے دین میں یہ برکتیں ہرگز نہیں۔ وید نے اگر آریوں کے دلوں پر کچھ اثر ڈالا ہے تو وہ صرف گالیاں اور دشنام دہی ہے تمام مقدسوں کو فریبی کہنا سب پاک