کےؔ طور پر انوار ہدایت کھولے اور اپنے آلاء و نعماء سے آشنا کرے اور لدُنی طور پر عقل اور علم عطا فرماوے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کرکے عجائبات الوہیت کا سیر کراوے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے جس کو دوسرے
کلام ؔ معجز نظام میں اندراج پایا ہے کہ جس سے غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بجز قادرِ مطلق کے یہ کسی کا کام نہیں۔ تیسرے علم مبدء و معاد و دیگر امور غیبیہ جو عالم الغیب کے کلام کا ایک لازمی خاصہ ہے جس سے دلوں کو تسلی و تشفی ملتی ہے اور غیب دانی خدائے قادر مطلق کی مشہودی طور پر ثابت و متحقق ہوتی ہے یہ علم اس تفصیل اور کثرت سے قرآن شریف میں پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ پھر علاوہ اس کے قرآنِ شریف نے تائید دین میں اور اور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور ہیئت اور علم نفس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت وفصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اس کا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کردینا یا اس پر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھانا مدنظر رکھا ہے غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمت دین کے لئے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہریک درجہ کا ذہن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگرچہ دلی جوش اس عاجز کا اس بات کی طرف دامن دل کھینچ رہا ہے کہ ان سب علوم میں سے دو دو تین تین مسائل علمی جو قرآن شریف میں درج ہیں نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جائیں اور کچھ براہین عقلیہ بھی جو اس پاک کلام میں اثبات اصول دین کے لئے اندراج پائے ہیں تحریر ہوں لیکن چونکہ یہ سب بیانات طوالت طلب ہیں اور رسالہ ہذا بوجہ قلیل الحجم ہونے کے ان کی برداشت نہیں کرسکتا اور کتاب براہین احمدیہ خود ان سب باتوں کی متکفل ہے اس لئے خوفِ اطناب سے ترک کردیا گیا۔ طالبین حق انشاء اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں ان