ثوابؔ مترتب ہونے کی کیوں امید کی جاتی ہے سو جاننا چاہیئے کہ ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی سے مراد ہے جو تبلیغ وپیغام کسی نبی کی نسبت محض تقویٰ اور دوراندیشی کے لحاظ سے صرف نیک ظنی کی بنیاد پر یعنے بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان پاکر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور کرؔ کے راہ راست کو چھوڑ دیا۔ پس یہ الٰہی عقل از قبیل خارق عادت ہے جس کے استدلال میں کوئی غلطی نہیں اور جس نے علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی اور اس کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ دلائل وجود باری عزاسمہٗ اور اس کی توحید و خالقیت وغیرہ صفات کمالیہ کے اثبات میں بیان قرآن شریف کا ایسا محیط و حاوی ہے جس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان کوئی جدید برہان پیش کرسکے اگر کسی کو شک ہو تو وہ چند دلائل عقلی متعلق اثبات ہستی باری عزاسمہٗ یا اس کی توحید یا اس کی خالقیت یا کسی دوسری الٰہی صفت کے متعلق بطور امتحان پیش کرے تا بالمقابل قرآن شریف میں سے وہی دلائل یا ان سے بڑھ کر اس کو دکھلائے جائیں جس کے دکھلانے کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں غرض یہ دعویٰ اور یہ تعریف قرآنی لاف و گذاف نہیں بلکہ حقیقت میں حق ہے اور کوئی شخص عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کرسکتا جس کے پیش کرنے سے قرآن شریف غافل رہا ہو۔ قرآن شریف بآواز بلند بیسیوں جگہ اپنے احاطہ تامہ کا دعویٰ پیش کرتا ہے چنانچہ بعض آیات ان میں سے ہم اس حاشیہ میں درج بھی کرچکے ہیں سو اگر کوئی طالب حق آزمائش کا شائق ہو تو ہم اس کی تسلی کامل کرنے کے لئے مستعد اور تیار اور ذمہ وار ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس پرغفلت اور لاپروائی اور بے قدری کے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں جو صدق دلی سے طالب حق ہوکر اس خاصیتِ عظمیٰ و معجزہ کبریٰ کی آزمائش چاہیں بلکہ وہ اسی میں اپنی سرخروئی سمجھ لیتے ہیں کہ بات کو