میںؔ دیکھتا ہوں کہ ان کی روحا نی زندگی بہت ہی کمزور ہوگئی ہے اور ان کی بے جا آزادی اور ضعفِ ایمان نے بہت ہی برا اثر ان کے ارادت باطنی اور ان کی دینی اولوالعزمی اور ان کی اندرونی حالت پر ڈالا ہے اور عجیب طور پر انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا دیا ہے مذہب وہ چیز ہے جس کی برکات کی اصل جڑھ ایمان و اعتبار و حسن گھر ؔ خرابی کی حالت میں رہتا ہے پس جس جگہ صفوت و عصمت و تبتل و محبت کامل و تام وحزن و درد و شوق و خوف ہے اس جگہ انوار وحی کے کامل تجلیات بغیر آمیزش کسی نوع کی ظلمت کے وارد ہوتے رہتے ہیں اور آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے رہتے ہیں اور جس جگہ یہ مرتبہ کمالِ تام کا نہیں اس جگہ وحی بھی اس عالی مرتبہ سے متنزل ہوتی ہے۔ غرض وحی الٰہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہٗ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔ سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہورہی ہے کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔ کوئی فکر ایسے برہان عقلی پیش نہیں کرسکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔ کوئی تقریر ایسا قوی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قوی اور