اور ؔ نالائق خیال ہے جو ادب اور تعظیم اور عجز اور عبودیت کی حقیقت سے نہایت دور پڑا ہوا ہے لیکن میں ان خشک فلسفیوں کو جو عشق الٰہی اور اس کی بزرگ ذات کی قدر شناسی سے غافل ہیں جہاں تک مجھے طاقت عقلی دی گئی ہے بدلائلِ شافیہ راہ راست کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کاتخم ؔ پایا جاتا ہے لیکن وہ تخم اس چھپی ہوئی آگ کی طرح ہے جو افروختہ آگ کا کام نہیں دے سکتی جیسے ظاہر ہے کہ انڈا مرغ کا قائم مقام نہیں ہوسکتا اور نہ بیج درخت کا حکم رکھتا ہے اور اگرچہ ہریک زمین کے نیچے پانی ہے لیکن بجز بہت سی جان کنی اور محنت اور مدت تک زمین کھودنے کے وہ پانی نکل نہیں سکتا اسی طرح آتش شوق الٰہی جب تک اپنے کمال اشتعال کی حالت میں نہ آئے تب تک اس کے فوائد مترتب نہیں ہوسکتے لیکن جب وہ کامل طور پر افروختہ ہوجاتی ہے اور چاروں طرف سے بھڑک اٹھتی ہے تب وہ دخل شیطان سے محفوظ رکھنے کے لئے فرشتوں کا کام دیتی ہے اور ملائک حفاظت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاک اعمال اور پاک حالتیں اور پاک وارداتیں اور پاک جوش اور پاک درد اور پاک حزن اور پاک اخلاقی ظہور جب اپنے اشتعال اور کمال کی حالت میں ہوں تو ان نیک اور ہوشیار چوکیداروں کی طرح ہیں جو اپنے مالک کے محل کے دروازوں پر چاروں طرف دن رات پہرہ کے لئے کھڑے رہتے ہیں سو ہر چند اس محل کے سارے دروازے کھلے ہیں (یعنی ہر ایک قسم کی قوتیں اور استعدادیں) مگر بباعث تقید محافظین بجز سرد ہوا اور محبوب چیزوں کے کوئی نابکار چیز اندر نہیں جاسکتی اور اگر کتا یا چور اندر جانے کا ارادہ کرتا ہے تو پکڑا جاتا ہے اور مار کھاتا ہے لیکن وہ محل جس کے دروازے تو کھلے ہیں مگر دروازوں پر کوئی نیک و ہوشیار چوکیدار نہیں گو اس میں ٹھنڈی ہوا اور اچھی اچھی چیزیں بھی داخل ہوتی ہیں مگر ایسے گھر کو اکثر چور لگے رہتے ہیں اور کتے اس کی چیزوں کو پلید کرتے رہتے ہیں۔ سو یہ