مالکؔ سے دلی محبت رکھتے ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خود ان کو وہی ان کی سچی محبت یہ طریقِ ادب سکھادے گی کہ ذات جامع الکمالات حضرت احدیت کے علم کے ساتھ اپنے محدود علم کو برابر جاننا اور اس کی ازلی ابدی قدرتوں کو اپنے مشاہدات یا معلومات سے زیادہ نہ سمجھنا بہت برا
و معاؔ ملات و اخلاق جو انتہائی درجہ پر اس سے صادر ہوتے ہیں وہ سب خارق عادت ہی ہوجاتے ہیں سو بمقابل اس کے ایسا ہی معاملہ باری تعالیٰ کا بھی اس مبدّل تام سے بطور خارق عادت ہی ہوتا ہے سو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مبدّل تام اور سیّد المبدلین اور امام المطہرین تھے جن کو قادر مطلق نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا اس لئے تمام سراپا وجود ان کے کا حقیقت میں معجزہ ہی تھا اور ضرور تھا کہ ایسے عالی شان نبی پر جو کلام نازل ہوا تھا وہ بباعث تبدل تام اس کے غایت درجہ کا خارق عادت ہوتا جس سے تمام اولین آخرین کی نظریں خیرہ رہ جاتیں کیونکہ اگرچہ کلام الٰہی فی ذاتہٖ کلام انسانی سے ایسا ہی ممیز ہے جیسا خدا انسان سے تمیز تام رکھتا ہے لیکن باوجود اس کے فیضان وحی حسب استعداد و حالتِ صفوت و اخلاق فاضلہ و ملکات صالحہ وحی یاب ہوا کرتا ہے اور اسی کی طرف ایک روحانی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ وہ پاک کلام بہت سے فرشتوں کی حفاظت کے ساتھ اترا ہے۔ سو ظاہری فرشتے تو معلوم ہی ہیں مگر پاک اخلاق اور پاکیزہ حالتیں اور شوق و ذوق سے بھری ہوئی وارداتیں اور درد دل اور جوش محبت اور صدق و صفا و تبتل و وفاو توکل و رضا و نیستی وفنا اور شورش ہائے عشقِ مولیٰ ایک قسم کے فرشتے ہی ہیں جو قادر مطلق نے اپنے اس محبوب افضل الرسل کے وجود میں اکمل و اتم طور پر پیدا کئے تھے اور پھر اسی کے اتباع سے ہریک مومن کامل کے دل میں بھی باذنہٖ تعالیٰ پیدا ہوجاتے ہیں اور اگرچہ عام مومنوں میں بھی جو ابھی حالتِ کمالیہ تک نہیں پہنچے