اور نہ آگے کو اس کی لیاقت و طاقت ایسی نظر آتی ہے کہ اس مالک الملک کے وراء الوراء بھیدوں کے ایک چھوٹے سے رقبۂ زمین کی طرح پیمائش کرسکے یا کسی ایک چیز کے جمیع خواص پر احاطہ کرنے کا دم مارسکے مجھے ان صاف باطن لوگوں کے آگے منطقی دلائل کی حاجت نہیں جو اپنے اس پیارے ہوؔ کر اکثر حصہ دنیا میں پھیل گیا اور ہریک موقعہ پر کیا کیا عجیب تائیدات الٰہیہ اس کی حمایت میں ظہور میں آتی رہیں۔ اب ہم بیرونی معجزات کا بیان (جو اعجازی تصرفات ہیں) اسی قدر کافی سمجھ کر ان معجزات کی تشریح کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں جو قرآن شریف کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی بطنی اور نفسی خاصیتیں ہیں کیونکہ اس قسم کے معجزات بباعث دائمی شہود اور وجود کے قوی الاثر ہیں جن کو ہر ایک طالب صادق اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ہریک منصف کی نظر میں بالضرورت قابل یقین ٹھہرسکتے ہیں۔ سو اوّل جاننا چاہئے کہ معجزہ عادات الٰہیہ میں سے ایک ایسی عادت یا یوں کہو کہ اس قادر مطلق کے افعال میں سے ایک ایسا فعل ہے جس کو اضافی طور پر خارق عادت کہنا چاہئے پس امر خارقِ عادت کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جب پاک نفس لوگ عام طریق و طرز انسانی سے ترقی کرکے اور معمولی عادات کو پھاڑ کر قرب الٰہی کے میدانوں میں آگے قدم رکھتے ہیں تو خدائے تعالیٰ حسب حالت ان کے ایک ایسا عجیب معاملہ ان سے کرتا ہے کہ وہ عام حالاتِ انسانی پر خیال کرنے کے بعد ایک امر خارقِ عادت دکھائی دیتا ہے اور جس قدر انسان اپنی بشریت کے وطن کو چھوڑ کر اور اپنے نفس کے حجابوں کو پھاڑ کر عرصاتِ عشق و محبت میں دور تر چلا جاتا ہے اسی قدر یہ خوارق نہایت صاف اور شفاف اور روشن و تابان ظہور میں آتے ہیں۔ جب تزکیہ نفس انسانی کمال تام کی حالت پر پہنچتا ہے اور اس کا دل غیر اللہ سے بالکل خالی ہوجاتا ہے اور محبت الٰہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے تمام اقوال و افعال و اعمال و حرکات و سکنات و عبادات