یہ ؔ کہتا ہوں کہ خدائے ذوالجلال کی تعظیم کرکے اس کے نئے کاموں کی نسبت (جو تمہاری محدود نظروں میں نئے دکھائی دیتے ہیں) بے جا ضد بھی مت کرو کیونکہ جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں خدائے تعالیٰ کی عجائب قدرتوں اور دقائق حکمتوں اور پیچ در پیچ اسراروں کے ابھی تک انسان نے بکلی حد بست نہیں کی اور ؔ خدائے تعالیٰ نے ان چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ اور اندھا اور پریشان کرکے وہیں رکھا اور ان کی لاشیں انہیں مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ نشان بتلا رکھے تھے۔ ایسا ہی اور کئی عجیب طور کے تائیدات و تصرفات الٰہیہ کا (جو خارق عادت ہیں) قرآن شریف میں ذکر ہے جن کا ماحصل یہ ہے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسکینی اور غریبی اور یتیمی اور تنہائی اور بے کسی کی حالت میں مبعوث کرکے پھر ایک نہایت قلیل عرصہ میں جو تیس برس سے بھی کم تھا ایک عالم پر فتح یاب کیا اور شہنشاہِ قسطنطنیہ و بادشاہان دیار شامؔ و مصرؔ و ممالک مابین دجلہؔ و فراتؔ وغیرہ پر غلبہ بخشا اور اس تھوڑے ہی عرصہ میں فتوحات کو جزیرہ نما عرب ؔ سے لے کر دریائے جیحونؔ تک پھیلایا اور ان ممالک کے اسلامؔ قبول کرنے کی بطور پیشگوئی قرآن شریف میں خبردی اس حالتِ بے سامانی اور پھر ایسی عجیب و غریب فتحوں پر نظر ڈال کر بڑے بڑے دانشمند اور فاضل انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے کہ جس جلدی سے اسلامی سلطنت اور اسلام دنیا میں پھیلا ہے اس کی نظیر صفحۂ تواریخ دنیا میں کسی جگہ نہیں پائی جاتی اور ظاہر ہے کہ جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت بھی کہتے ہیں۔ غرض قرآنؔ شریف میں تصرفات خارجیہ کا ذکر بھی بطور خارق عادت بہت جگہ آیا ہے بلکہ ذرا نظر کھول کر دیکھو تو اس پاک کلام کا ہریک مقام تائیدات الٰہیہ کا نقارہ بجارہا ہے اور ایک تصویر کھینچ کر دکھلا رہا ہے کہ کیونکر اسلامؔ اپنی اول حالت میں ایک خورد تر بیج کی طرح دنیا میں بویا گیا اور پھر وہ تھوڑے ہی عرصہ میں جو خارق عادت ہے کیسا بزرگ و عظیم القدر