پر انؔ کو عبور ہوگیا ہے’’ تمام خوشیاں عارفوں کی اور تمام راحتیں غمزدوں کی اسی میں ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کا کنارہ لا یدرک ہے میں یہ نہیں کہتا کہ بے تحقیق اور بے ثبوت عقلی یا آزمائشی یا تاریخی کسی نئی بات کو مان لو کیونکہ اس عادت سے بہت سے رطب ویابس کا ذخیرہ اکٹھا ہوجائے گا بلکہ میں
جو اؔ جمالی طور پر قرآن شریف میں درج ہیں منجملہ ان کے ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کررہے تھے سو خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورۂیٰسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور آنحضرت ان کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے۔ ازاں جملہ ایک یہ کہ اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجود یکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے۔ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دیئے اور اسی طرح اذن الٰہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑکر ناکام واپس چلے گئے۔ ازانجملہ ایک یہ کہ ایک مخالف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پکڑنے کے لئے مدینہ کی راہ پر گھوڑا دوڑائے چلا جاتا تھا جب وہ اتفاقاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو جناب ممدوح کی بددعا سے اس کے گھوڑے کے چاروں ُ سم زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑا اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگ کر اور عفو تقصیر کرا کر واپس لوٹ آیا ۔چوتھی وہ تصرف اعجازی کہ جب دشمنوں نے اپنی ناکامی سے منفعل ہوکر لشکر کثیر کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کی تا مسلمانوں کو جو ابھی تھوڑے سے آدمی تھے نابود کردیں اور دینِ اسلام کا نام و نشان مٹا دیں تب اللہ جل شانہٗ نے جناب موصوف کے ایک مٹھی کنکریوں کے چلانے سے مقام بدر میں دشمنوں میں ایک تہلکہ ڈال دیا اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہوئی