قدرتوؔ ں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہوجائے گا اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اورُ کنہ ہے ہم نے سب معلوم کرلی ہے اور اس کے گہراؤ اور تہ تک ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں سو ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانونِ قدرت خیال کرلینا اور اس پر غیر متناہی سلسلۂ قدرت کو ختم کردینا اور آئندہ کے نئے اسرار کھلنے سے ناامید ہوجانا ان پست نظروں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خدائے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہئے شناخت نہیں کیا اور جو اپنی فطرت میں نہایت منقبض واقعہ ہوئے ہیں یہاں تک کہ ایک کنوئیں کی مینڈک ہوکر یہ خیال کررہے ہیں کہ گویا ایک سمندر ناپیدا کنار
قدیمیؔ شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیرلیا تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا۔ جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مونہہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔
کس بہر کسے سرندہدجان نفشاند
عشق است کہ ایں کار بصد صدق کناند
سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جان نثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بدباطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پاکر قتل کرڈالیں اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک بااخلاص اور یکرنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔ ہاں ہروقت اور نیز اس پرخطر سفر میں وہ مولیٰ کریم ساتھ تھا جس نے اپنے اس کامل وفادار بندہ کو ایک عظیم الشان اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا تھا سو اس نے اپنے اس پیارے بندہ کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑے بڑے عجائب تصرفات اس راہ میں دکھلائے