میںؔ کیا کیا قدرتیں ظاہر کرے گا۔ کیا وہ جدید درجدید قدرتوں کے ظاہر کرنے پر قادر ہوگا یا کوہلو کے بیل کی طرح انہیں چند قدرتوں میں مقیّد اور محصور رہے گا جن کو ہم دیکھ چکے ہیں اور جن پر ہمارا بخوبی احاطہ ہے اور اگر انہیں میں مقیّد اور محصور رہے گا تو باوجود اس کے غیر محدود الوہیت اور قدرت اور طاقت کے یہ مقید اور محصور رہنا کس وجہ سے ہوگا کیا وہ آپ ہی وسیع قدرتوں کے دکھلانے سے عاجز آئے گا یا کسی دوسرے قاسر نے اس پر جبر کیا ہوگا یا اس کی خدائی کو انہیں چند قسم کی قدرتوں سے قوت پہنچتی ہے اور دوسری قدرتوں کے ظاہر کرنے سے اس پر زوال آتا ہے بہرحال اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیرمحدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہوسکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خدائے ازلی و ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہوگا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ بھی ہے کہ اس کی
مندرج ؔ ہیں۔ ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو د۲و ٹکڑے کردیا۔ دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔ تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شرِ کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا یعنے کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہٗ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بدارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم فرمایا اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی بدھ کا روز اور دوپہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے