الوؔ ہیت وابستہ اور اسی سے ترقیات علمیہ کا ہمیشہ کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر کس قدر غلطی کی بات ہے کہ ہم یہ ناکارہ حجت پیش کریں کہ جو امر ہماری سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے بلکہ جس حالت میں ہم اپنے مونہہ سے اقرار کرچکے کہ قوانین قدرتیہ غیر متناہی اور غیر محدود ہیں تو پھر ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہریک نئی بات جو ظہور میں آوے پہلے ہی اپنی عقل سے بالاتر دیکھ کر اس کو رد نہ کریں بلکہ خوب متوجہ ہوکر اس کے ثبوت یا عدم ثبوت کا حال جانچ لیں اگر وہ ثابت ہو تو اپنے قانون قدرت کی فہرست میں اس کو بھی داخل کرلیں اور اگر وہ ثابت نہ ہو تو صرف اتنا کہہ دیں کہ ثابت نہیں مگر اس بات کے کہنے کے ہم ہرگز مجاز نہیں ہوں گے کہ وہ امر قانون قدرت سے باہر ہے بلکہ قانون قدرت سے باہر کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے ُ پرضرور ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدائے تعالیٰ کے تمام قوانین ازلی و ابدی پر محیط ہوجائیں اور بخوبی ہمارا فکر اس بات پر احاطۂ تام کرلے کہ خدائے تعالیٰ نے روز اول سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ اُسؔ کے افروختہ ہونے کی ہیں اور پھر ایک جگہ فرمایا ہے لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ‏ یعنے یہ قرآن جو تم پر اتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الٰہی سے ٹکڑہ ٹکڑہ ہوجاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تا لوگ کلام الٰہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔ یہ تو قرآن شریف میں ان اعجازی کمالات کا ذکر ہے جو خود اس کے نفس نفیس میں پائے جاتے ہیں لیکن بایں ہمہ تصرفات خارجیہ کے اعجاز بھی قرآن شریف میں بکثرت درج ہیں اور اس قسم کے معجزات جمال قرآنی کے لئے بطور اس زیور کے ہیں جو خوبوں کو پہنایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ نفس خوبصورتی زیور کے محتاج نہیں گو اس سے حسن کی آب و تاب کسی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ تصرفات خارجیہ کے معجزات قرآن شریف میں کئی نوع پر