دلالتؔ کرتے ہیں سو جاننا چاہئے کہ نیچر کے ماننے والے یعنی قانون قدرت کے پیرو کہلانے والے اس خیال پر زور دیتے ہیں کہ یہ بات بدیہی ہے کہ جہاں تک انسان اپنی عقلی قوتوں سے جان سکتا ہے وہ بجز قدرت اور قانون قدرت کے کچھ نہیں یعنی مصنوعات و موجودات مشہودہ موجودہ پر نظر کرنے سے چاروں طرف یہی نظر آتا ہے کہ ہریک چیز مادی یا غیر مادی جو ہم میں اور ہمارے اردگرد یا فوق وتحت میں موجود ہے وہ اپنے وجود اور قیام اور ترتب آثار میں ایک عجیب سلسلہ انتظام سے وابستہ ہے جو ہمیشہ اس کی ذات میں پایا جاتا ہے اور کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ قدرت نے جس طرح پر جس کا ہونا بنادیا بغیر خطاکے اسی طرح ہوتا ہے اور اُسی طرح پر ہوگا پس وہی سچ ہے اور اصول بھی وہی سچے ہیں جو اس کے مطابق ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بلاشبہ یہ سب سچ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قدرت الٰہی کے طریقے اور اس کے قانون اسی حد تک ہیں جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں آچکے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ جس حالت میں الٰہی قدرتوں کو غیر محدود ماننا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے جو اسی سے نظامِ کارخانۂ تمامؔ آسمانی کتابوں کا مغز اور لب لباب بھرا ہوا ہے اور پھر فرماتا ہے۔ وَاِنْ کُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ۱؂ یعنے اے منکرین اگر تم اس کلام کے بارہ میں جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کچھ شک میں ہو یعنے اگر تم اس کو خدا کا کلام نہیں سمجھتے اور ایسا کلام بنانا انسانی طاقت کے اندر خیال کرتے ہو تو تم بھی ایک سورت جو انہیں ظاہری باطنی کمالات پر مشتمل ہو بناکر پیش کرو۔ اور اگر تم نہ بناسکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن پتھر ( ُ بت) اور آدمی ہیں یعنی ُ بت اور مشرک اور نا،فرمان لوگ ہی اس آگ کے بھڑکنے کا موجب ہورہے ہیں اگر دنیا میں ُ بت پرستی و شرک و بے ایمانی و نافرمانی نہ ہوتی تو وہ آگ بھی افروختہ نہ ہوتی تو گویا اس کا ایندھن یہی چیزیں ہیں جو علت موجبہ