ایکؔ حصہ ہے جس کو ہم نے جلسہ بحث گیارہویں مارچ ۱۸۸۶ء میں ماسٹر صاحب کے جواب الجواب کے ردّ میں لکھنا چاہا تھا مگر بوجہ عہد شکنی ماسٹر صاحب اور چلے جانے ان کے اور برخاست ہوجانے جلسہ بحث کے لکھ نہ سکے ناچار حسبِ وعدہ اب لکھنا پڑا۔ سو کچھ اس میں سے اس جگہ اور کچھ جیسا کہ مناسب محل و ترتیب ہوگا بعد میں لکھیں گے۔ وما توفیقی اِلّاباللّٰہ ھونعم المولٰی ونعم النصیر۔
مُقدّمہ
ماسٹر صاحب نے اسلامؔ کے عقیدہ پر شق القمر کا اعتراض پیش کیا ہے اور اس اعتراض سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی فلسفہ کے پھیلنے کی وجہ سے ان سب عجائبات سماوی و ارضی کو قانونِ قدرت کے برخلاف سمجھتے ہیں جن پر ان کی عقل محیط نہیں ہوسکتی اور جن کو انہوں نے نہ بچشم خود دیکھا اور نہ اپنے فلسفہ کی کتابوں میں اس کا اثر یا نشان پایا اس لئے ماسٹر صاحب نے یہ اعتراض پیش کردیا تا فلسفی طبع لوگ جن کے دل ودماغ پر خیالات فلسفہ غالب آرہے ہیں۔ خواہ نخواہ شق القمر کے محال ہونے میں ان کے ساتھ ہاں کے ساتھ ملائیں اور گو ان کی بات کیسی ہی ادھوری اور بودی ہو مگر پنچایت کے اتفاق سے کچھ آب ورنگ لے آوے۔ سو
کہاؔ کہ اگر آپ اس وقت کسی نوع سے ٹھہرنا مصلحت نہیں سمجھتے تو میں دوروز اور اس جگہ ہوں اور اپنا دن رات اسی خدمت میں صرف کرسکتا ہوں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ فرصت نہیں۔ اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب جو کچھ گھر پر جاکر لکھیں گے ہمیں کچھ اطلاع نہیں اس لئے ہم اس کی نسبت کچھ تحریر کرنے سے معذور ہیں منہ۔