تحرؔ یر کریں صفائی بیان کے لئے ایک مقدمہ لکھتے ہیں یہ مقدمہ درحقیقت اُسی مضمون کا کا ؔ مجمع تھا سماج سمجھا ہوتا علت غائی سماجوں کی لیکچر وغیرہ ہی ہؤا کرتی تھی سو وہ تو اُس جگہ ایسی میسر تھی کہ جو سماج میں کبھی میسر نہیں آئی ہوگی۔ ماسوا اس کے جب ماسٹر صاحب نے بہت سا حصہ وقت کا صرف باتوں میں ہی ضائع کرکے پھر بہت سی سستی اور آہستگی سے جواب لکھنا شروع کیا تو اسی وقت ہم سمجھ گئے تھے کہ آپکی نیت میں خیر نہیں ہے اِسی خیال سے اُنکو کہا گیا کہ بہتر یوں ہے کہ جو جو ورق آپ لکھتے جائیں وہ مجھے دیتے جائیں تا میں اُسکا جواب الجواب بھی لکھتا جاؤں اِس انتظام سے دونوں فریق جلد تر فراغت کرلیں گے مگر اُنکا تو مطلب ہی اور تھا وہ کیونکر ایسے انصاف کی باتوں کو قبول کرتے سو انہوں نے انکار کیا اور لالہ رام لچھمن صاحب اُنکے رفیق نے مجھے کہا کہ مَیں آپکی غرض کو سمجھ گیا۔ لیکن ماسٹر صاحب ایسا کرنا نہیں چاہتے چنانچہ وُہی بات ہوئی اور اخیر پر ناتمام کام چھوڑ کر سماج کا عذر پیش ہوگیا اگر کوئی دُنیا کا مقدمہ یا کام ہوتا تو ماسٹر صاحب ہزار دفعہ سماج کے وقت کو چھوڑ دیتے پر سچ تو یہ ہے کہ سماج کا عذر تو ایک بہانہ ہی تھا اصل موجب تو وہ گھبراہٹ تھی جو اعتراض کی عظمت اور بزرگی کی و جہ سے ماسٹر صاحب کے دل پر ایک عجیب کام کر رہی تھی۔ اسی باعث سے پہلے ماسٹر صاحب نے باتوں میں وقت کھویا اور اعتراض کو سُنتے ہوئے ایسے گھبرائے اور کچھ ایسے مبہوت سے ہو گئے کہ چہرہ پر پریشانی کے آثار ظاہر تھے اور ناکارہ عذرات پیش کرکے یہ چاہا کہ بغیر تحریر جواب اُٹھ کر چلے جائیں اسی وجہ سے لوگ تحریر جواب سے نااُمید ہوکر متفرق ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہوئے اُٹھ گئے کہ اب کیا بیٹھیں اب تو بحث ختم ہوگئی آخر ماسٹر صاحب نے طوعاً و کرہاً حاضرین کی شرم سے کچھ لکھا جس کا آدھا دھڑ تو ماسٹر صاحب کے کاغذ پر اور آدھا اُن کے دل میں ہی رہا بہرحال وہ اپنے جواب کو اِسی جان کندن میں چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ماسٹر صاحب کو اُٹھتے وقت میں نے یہ بھی