اوّلؔ ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھہرایا گیا ہو بلکہ ہزارہا شواہد اندرونی و بیرونی وصدہا معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔ سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کرکے فرض بھی کرلیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی اگر کچھ حرج ہے تو شاید ایسا ہے کہ جیسے بیس کروڑ روپیہ کی جائداد میں سے ایک پیسے کا نقصان ہوجائے۔ پس اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اگر بفرض محال اہلِ اِسلام تاریخی طور پر اس معجزہ کو ثابت نہ کرسکیں تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بداثر نہیں پہنچ سکتا۔* سچ تو یہ ہے کہ کلام الٰہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلّی بے نیاز کردیا ہے وہ نہ صرف اعجاز بلکہ اپنی برکات و تنویرات کے رو سے اعجاز آفرینؔ بھی ہے۔ فی الحقیقت قرآن شریف اپنی ذات میں ایسی صفات کمالیہ رکھتا ہے جو اس کو خارجیہ معجزات کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ خارجیہ معجزات کے ہونے سے اس میں کچھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہونے سے کوئی نقص عائد حال نہیں ہوتا۔ اس کا بازار حسن معجزات خارجیہ کے زیور سے رونق پذیر نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں آپ ہی ہزارہا معجزات عجیبہ و غریبہ کا جامع ہے جن کو ہریک زمانہ کے لوگ دیکھ سکتے ہیں نہ یہ کہ صرف گزشتہ کا حوالہ دیا جائے۔ وہ ایسا ملیح الحسن محبوب ہے کہ ہریک چیز اس سے مل کر آرائش پکڑتی ہے اور وہ اپنی آرائش میں کسی کی آمیزش کا محتاج نہیں۔ معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں۔ (۱) معجزات عقلیہ (۲) معجزات علمیہ (۳) معجزات برکات روحانیہ (۴) معجزات تصرفات خارجیہ۔ نمبر اول دو و تین کے معجزات خواص ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالی شان اور بدیہی الثبوت ہیں جن کو ہریک زمانہ میں ہریک شخص تازہ بتازہ طور پر چشم دید ماجرا کی طرح دریافت کرسکتا ہے لیکن نمبر چار کے معجزات یعنے تصرفات خارجیہ یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں انہیں میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔ اصل خوبی اور حسن و جمال قرآن شریف کا پہلے تینوں قسم کے معجزات سے وابستہ ہے بلکہ ہر ایک کلام الٰہی کا یہی نشان اعظم ہے کہ یہ تینوں قسم کے معجزات کسی قدر اس میں پائے جائیں اور قرآن شریف میں تو یہ ہر سہ قسم کے اعجاز اعلیٰ و اکمل و اتم طور پر پائے جاتے ہیں اور انہیں کو قرآنِ شریف اپنی بے مثل و مانند ہونے کے اثبات میں بار بار پیش کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ قُلْ