* اب ہم قبل اس کے کہ ماسٹر صاحب کا پہلا سوال جو شق القمر کے بارہ میں ہے
نام حاضرین جلسہ جو ماسٹر صاحب کی بیجا کارروائی کے گواہ ہیں۔ شیخ مہرؔ علی صاحب رئیسِ اعظم ہوشیار پور۔ مولوی الٰہی ؔ بخش صاحب وکیل ہوشیار پور۔ ڈاکٹر مصطفٰےؔ علی صاحب۔ بابو احمد حسینؔ صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ہوشیار پور۔ میاں عبد اللہ صاحب حکیم۔ میاں شہابؔ الدین صاحب دفعدار۔ لالہ نرائن داس صاحب وکیل۔ پنڈت جگنؔ ناتھ صاحب وکیل۔ لالہ رام لچھمنؔ صاحب ہیڈماسٹر لودہیانہ۔ بابو ہرکشنؔ داس صاحب سیکنڈ ماسٹر۔ لالہ گنیش ؔ داس صاحب وکیل۔ لالہ سیتاؔ رام صاحب مہاجن۔ میاں شتروگہن صاحب پسرِ کلاں راجہ صاحب سوکیتؔ ۔ میاں شترنؔ جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف۔ منشی گلابؔ سنگھ صاحب سرشتہ دار۔ مولوی غلام رسول صاحب مدرس۔ مولوی فتحؔ الدین صاحب مدرس۔ ان تمام حاضرین کے رُو برو لالہ مُرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر نے ہر ایک بات میں ناانصافی کی۔ اِس عاجز نے اپنا اعتراض ایک گھنٹہ کے قریب سُنا دیا تھا مگر انہوں نے تین گھنٹہ تک وقت لیا اور پھر بھی اعتراض کا ایک ٹکڑہ چھوڑ گئے اصلی منشا اُنکا یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی طرح دن گذر جائے اور اس بلا سے نجات پائیں مگر دن اُنکا دشمن ابھی تیسرے حصہ کے قریب سر پر کھڑا تھا اور واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کا یہ عذر کہ اب ہماری سماج کا وقت آگیا ہے بالکل عبث اور کچا بہانہ تھا۔ اول تو ماسٹر صاحب نے پہلے کوئی ایسی شرط نہیں کی تھی کہ جب سماج کا وقت ہوگا تو بحث کو درمیان چھوڑ کر چلے جائیں گے ماسوائے اس کے یہ تو دین کا کام تھا اور جن لوگوں نے سماج میں حاضر ہونا تھا وہ تو سب موجود تھے بلکہ بہت سے ہندو اورمسلمان اپنا اپنا کام چھوڑ کر اسی غرض سے حاضر تھے اور تمام صحن مکان کا حاضرین سے بھرا ہؤا تھا سو اگر ماسٹر صاحب کی نیّت میں فرق نہ ہوتا تو اسی جلسہ عظیمہ کو جو صدہا آدمیوں