اورؔ انکارِ نجات جاودانی باہم لازم ملزوم ہے اور ایک دوسرے سے پیدا ہوتا ہے۔ سو درحقیقت جو شخص یہ بات ثابت کرنا چاہے کہ خدائے تعالیٰ کے رب العٰلمین اور خالق نہ ہونے میں کچھ حرج نہیں اُس کو یہ ثابت کرنا بھی لازم آجائیگا کہ خدا ئے تعالیٰ کے کامل بندوں کا ہمیشہ جنم مرن کے عذاب میں مُبتلا رہنا اورکبھی دائمی نجات نہ پانا یہ بھی کچھ مضائقہ کی بات نہیں غرض بعد بہت سے سمجھانے کے پھر ماسٹر صاحب کچھ سمجھے اور جواب لکھنا شروع کیا اور تین گھنٹہ تک بہت سے وقت اور غم و غصہ کے بعد ایک ٹکڑۂ سوال کا جواب قلم بند کرکے سُنایا اور دوسرے ٹکڑہ کی بابت جوُمکتی کے بارہ میں تھا یہ جواب دیا کہ اِس کا جواب ہم اپنے مکان پر جاکر لکھ کر بھیج دیں گے۔ چنانچہ اِس طرف سے ایسا جواب لینے سے انکار ہوا اور عرض کردیا گیا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے رو برو تحریر کریں اگر گھر میں بیٹھ کر لکھنا تھا تو پھر اس جلسہبحث کی ضرورت ہی کیا تھی مگر ماسٹر صاحب نے نہ مانا اور کیونکر مانتے اُنکی تو اُس وقت حالت ہی اور ہو رہی تھی۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ جب کسی طور سے ماسٹر صاحب نے لکھنا منظور نہ کیا تو ناچار پھر یہ کہا گیا کہ جس قدر آپ نے لکھا ہے وہی ہم کو دیں تا اُس کا ہم جواب الجواب لکھیں تو اِس کے جواب میں اُنہوں نے بیان کیا کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے اب ہم بیٹھ نہیں سکتے ناچار جب وہ جانے کے لئے مستعد ہوئے تو اُن کو کہا گیا کہ آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ جو کچھ باہم عہد ہوچکا تھا اس کو توڑ دیانہ آپ پورا جواب لکھا اور نہ ہمیں اب جواب الجواب لکھنے دیتے ہیں۔ خیر بدرجۂ ناچاری یہ جواب الجواب بھی بطورِ خود تحریر کرکے رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائیگا چنانچہ یہ بات سُنتے ہی ماسٹر صاحب معہ اپنے رفیقوں کے اُٹھ کر چلے گئے اور حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں بخوبی معلوم کرگئے کہ ماسٹر صاحب کی یہ تمام کارروائی گریز اور کنارہ کشی کے لئے ایک بہانہ تھی۔