میںؔ دن کے وقت شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور کے مکان پر ہوا اُس کی بھی کیفیت سُنیے۔ اوّل حسب قرارداد اِس عاجز کی طرف سے ایک تحریری اعتراض پیش ہؤا جس کا مطلب یہ تھا کہ خدا ئے تعالےٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور پھر اُسی التزام سے جاودانی نجات سے منکر رہنا جو آریہ سماج والوں کا اُصول ہے اِس سے خدائے تعالےٰ کی توحید و رحمت دونوں دُور ہوتی ہیں۔ جب یہ اعتراض جلسۂ عام میں سُنایا گیا تو ماسٹر صاحب پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی جس کی کیفیت کو ماسٹر صاحب ہی کا جی جانتا ہوگا اور نیز وہ سب لوگ جو فہیم اور زیرک حاضر جلسہ تھے معلوم کرگئے ہوں گے۔ ماسٹر صاحب کو اس وقت کچھ بھی سوجھتا نہیں تھا کہ اس کا کیا جواب دیں۔ سو ناچار حیلہ جوئی کی غرض سے گھنٹہ سوا گھنٹہ کے عرصہ تک یہی عذر پیش کرتے رہے کہ یہ سوال ایک نہیں ہے بلکہ دو ہیں تو اس کے جواب میں عرض کردیا گیا کہ حقیقت میں سوال ایک ہی ہے یعنی خدائے تعالےٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور مکتی میعادی اُسی خراب اْصول کا ایک بد اثر ہے جو اُس سے الگ نہیں ہوسکتا۔ اِس جہت سے دونوں ٹکڑے سوال کے حقیقت میں ایک ہی ہیں کیونکہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے منکر ہوگا اُس کے لئے ممکن نہیں کہ ہمیشہ کی نجات کا اقرار کرسکے سو انکارِ خالقیت
مولرؔ اج صاحب نقل نویس۔ لالہ رام لچھمن صاحب ہیڈ ماسٹر لودھیانہ۔ بابو ہرکشن داس صاحب سیکنڈ ماسٹر ہوشیار پور۔ اِس جگہ مکرر لکھا جاتا ہے کہ میاں شتروگہن صاحب نے کئی بار ماسٹر صاحب کی خدمت میں التجا کی کہ آپ جواب الجواب کا جواب لکھنے دیں ہم لوگ بخوشی بیٹھیں گے۔ ہمیں کسی نوع سے تکلیف نہیں بلکہ ہمیں جواب سُننے کا شوق ہے ایسا ہی کئی ہندو صاحبوں نے یہ منشا ظاہر کیا مگر ماسٹر صاحب نے کچھ ایسی مصلحت سوچی کہ کسی کی بات کو نہ مانا اور اُٹھ کر چلے گئے۔ مؤلف