کےؔ عذاب سے نجات بخشے گا۔ ان دونوں بحثوں کے وقت یہ بات طے ہوچُکی تھی کہ جواب الجواب کے جواب تک بحث ختم ہو۔ اُس سے پہلے نہ ہو۔ لیکن ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب نے شرائط قرار یافتہ کو کچھ ملحوظ نہ رکھا۔ پہلے جلسہ میں جو گیاراں مارچؔ ۱۸۸۶ء کو بوقت شب ہؤا تھا اُن کی طرف سے یہ ناانصافی ہوئی کہ جب جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا جس کی تحریر کے لئے وہ آپ ہی فرماچکے تھے تو ماسٹر صاحب نے رات بڑی چلے جانے کا عُذر پیش کیا۔ ہر چند اس عاجز اور اکثر حاضرین نے سمجھایا کہ اے ماسٹر صاحب ابھی رات کچھ ایسی بڑی نہیں گئی ہم سب پر رات کا برابر اثر ہے مگر اقرار کے برخلاف کرنا بھی اچھی بات نہیں جواب ضرور تحریر ہونا چاہئیے لیکن وہ کچھ بھی ملتفت نہ ہوئے آخر بمواجہ تمام حاضرین کہا گیا کہ یہ جواب تحریر ہونے سے رہ نہیں سکتا۔ اگر آپ اس وقت اس کو ٹالنا چاہتے ہیں تو بالضرور اپنے طور پر رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے طوعاً و کرہاً بطور خود لکھا جانا تسلیم کیا پر اسی جلسہ میں وہ تحریر ہو کر پیش ہونا اُن کو بہت ناگوار معلوم ہؤا جس کی وجہ سے وہ بلا توقف اُٹھ کر چلے گئے بات یہ تھی کہ ماسٹر صاحب کو یہ فکر پڑی کہ اگر اسی وقت جواب الجواب کا جواب پیش ہؤا تو خدا جانے مجھے کیا کیا ندامتیں اُٹھانی پڑیں گی غرض یہ جلسہ تو اس طور پر ختم ہوا اور اس کے تمام واقعات جو اِس مضمون میں مندرج ہیں اُن کی شہادت حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں دے سکتے ہیں* اب دوسرا جلسہ جو چودھویں مارچ ۸۶ء
حاضرین جلسہ بحث گیاراں مارچؔ کے نام یہ ہیں۔ میان شتروگن صاحب پسر کلاں راجہ رودرسین صاحب والی ریاست سوکیت حال وارد ہوشیار پور۔ میاں شترنجی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف۔ میاں جنمی جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب۔ بابو