ایکؔ اعلیٰ درجہ کے رُکن اور مدار المہام ہیں مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہوا۔ وجہ اس کی یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے خود آکر درخواست کی کہ تعلیمِ اسلام پرمیرے چند سوالات ہیں اور چاہتا ہوں کہ پیش کروں۔ چونکہ یہ عاجز ایک زمانۂ دراز کی تحقیق اور تدقیق کے رُو سے خوب جانتا ہے کہ عقائد حقہ اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا اور جس کسی بات کو کوئی کوتہ اندیش مخالف اعتراض کی صورت میں دیکھتا ہے وہ در حقیقت ایک بھاری درجہ کی صداقت اور ایک عالی مرتبہ کی حکمت ہوتی ہے جو اس کی نظر بیمار سے چھپی رہتی ہے اسلئے باوجود شدت کم فرصتی میں نے مناسب سمجھا کہ ماسٹر صاحب کو اُن کے اعتراضات کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے مدد دوں اور بطور نمونہ ان کو دکھلاؤں کہ وید اور قرآن شریف میں سے کونسی کتاب اللہ تعالےٰ کی عظمت اور قدرت اور شوکت اور شان کے مطابق ہے اور کس کتاب پر سچے اور واقعی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ سو اس غرض سے ماسٹر صاحب کو کہا گیا کہ اگر آپ کو مذہبی بحث کا کچھ شوق ہے تو ہمیں بسروچشم منظور ہے لیکن مناسب ہے کہ دونوں فریق کے اصول کی حقیقت کھولنے کی غرض سے ہر دو فریق کی طرف سے سوالا ت پیش ہوں تا کوئی شخص جو اُن سوالات و جوابات کو پڑھے اس کو دونوں مذہبوں کے جانچنے اور پرکھنے کے لئے موقعہ مل سکے چنانچہ بمنظوری جانبین اسی التزام سے بحث شروع ہوئی۔ اول گیاراں مارچ ۱۸۸۶ ؁ء کی رات میں اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ماسٹر صاحب کی طرف سے ایک تحریری اعتراض شق القمر کے بارہ میں پیش ہوا اور پھر چودھویں مارچ ۱۸۸۶ ؁ء کے دن میں اس عاجز کی طرف سے آریہ صاحبوں کے اس اصول پر اعتراض پیش ہوا کہ پرمیشر نے کوئی رُوح پیدا نہیں کی اور نہ وہ کسی روح کو خواہ کوئی کیسا ہی راست باز اور وفادار اور سچا پرستار ہوہمیشہ کے لئے جنم مرن