اورؔ خاصیتیں اُن میں رکھیں جن پر غور کرنے سے ایک عجیب عالم عظمت اورقُدرتِ الٰہی کا نظر آتا ہے اور جن کے دیکھنے اور سوچنے سے معرفت الٰہی کا کامل دروازہ کھلتا ہے۔ اُسی قادرِ توانا کی مدح اور حمد میں محو رہنا چاہیئے جس کی ایجاد کے بغیر کوئی ایک چیز بھی موجود نہیں ہوئی وہی ایک ذات عجیب الحکمت و عظیم القدرت ہے جس کے فقط حکمی طاقت سے جو کچھ وجود رکھتا ہے پیدا ہوگیا۔ ہر ایک ذرہ اَنْتَ رَبِّی اَنت رَبِّی کی آوازسے زبان کشا ہے۔ ہر ایک جان انت مالکی انت مالکی کی شہادت سے نغمہ سرا ہے۔ وہی حکیمِ مطلق ہے جس نے انسانی روحوں کو ایک ایسا پُر منفعت جسم بخشا کہ جو اِس جہان میں کمالات حاصل کرنے اور اُس جہان میں اُن کا پورا پورا حظ اُٹھانے کے لئے بڑا بھارایار و مددگار ہے۔ روح اور جسم دونوں مل کر اس کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔ اور ظاہری باطنی دونوں قوتیں اُس کی شہادت دے رہی ہیں۔ وہی محسنِ حقیقی ہے جس نے وفاداری سے ایمان لانے والوں کو ہمیشہ کی رستگاری کی خوشخبری دی اور اپنے صادق عارفوں اور سچے محبوں کے لئے اس جنتِ دائمی کا وعدہ دیا جو بدرجۂ اکمل و اتم مظہر العجائب ہے جس کی نہریں اسی دنیوی حیات میں جوش مارنا شروع کرتی ہیں۔ جس کے درخت اسی جگہ کی آبپاشی سے نشوونما پاتے جاتے ہیں۔ اُسکی قدرت و حکمت ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے اور اُس کی حفاظت جو ہر یک چیز کے شامل حال ہے اُسکی عام خالقیت پر گواہ ہے۔ اس کی حکیمانہ طاقتیں بے انتہا ہیں کون ہے جو اُنکی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اُس کی قادرانہ حکمتیں عمیق در عمیق ہیں۔ کون ہے جو اُن پر احاطہ کرسکتا ہے۔ ہریک چیز کے اندر اُسکے وجود کی گواہی چھپی ہوئی ہے۔ ہر یک مصنوع اُس صانع کامل کی راہ دکھلارہا ہے۔ موجود بوجود حقیقی وہی ایک رب العالمین ہے اور باقی سب اُس سے پیدا اور اُس کے سہارے سے قائم