شروع ہی اگنی کی تعریف سے ہوتی ہے اور جو نذریں دوسرے دیوتاؤں کو یہ اگنی دیوتا پہنچاتا ہے وہ کیا شے ہے؟ وہ ان بخارات سے مراد ہے جو گھی
وغیرہ کو آگ پر ڈالنے سے آگ میں سے اٹھتے ہیں اور ہوا میں جا ملتے ہیں۔ جو وایو دیوتا ہے اور پھر اندر دیوتا یعنی کرۂزمہر یرتک اس کا اثر پہنچتا ہے اور پھر دھرتی دیوتا پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ یہ تو اس شرتی کا مضمون ہے اور لفظی صنعت اس میں یہ ہے کہ آگ کو جس کا رنگ تاباں و درخشاں ہے رتنا دہاتما یعنے جواہر دار قرار دے دیا ہے کیونکہ آگ کی چمک کو جواہرات کی چمک سے ایک مناسبت ہے گویا اگنی ایک جوہر دار اور دولت مند دیوتا ہے جس کے پاس اس قدر جواہر ہیں جو دیوتاؤں کو نذریں دیتا ہے۔
اب میں کہتا ہوں کہ یہ تناسب شاعرانہ تو سب ہوئے مگر کیا اس شرتی میں پرمیشر کا کہیں ذکر بھی ہے اے آریو کچھ انصاف کرو ایماناً اپنی کانشنس سے ہی پوچھ کر دیکھو کہ بجز اس باقرینہ معنوں کے کوئی اور بھی اس کے معنے بن سکتے ہیں ہرگز نہیں بن سکتے کیونکہ اگر اگنی سے پرمیشر مراد ہے تو پھر وہ دوسرے دیوتے کون سے ہیں جن کو پرمیشر نذریں پہنچاتا ہے اور نیز اس صورت میں شعر کا بھی ستیاناس ہوجائے گا کیونکہ اس نازک خیال شاعر نے آگ کو باعتبار چمکتے ہوئے رنگ کے ایک جواہر دار سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ آگ کو جواہر تاباں سے اور شاعر بھی تشبیہ دیتے آئے ہیں۔ شیخ سعدی مرحوم نے بھی ایک شعر میں آتش کو جواہرات سے تشبیہ دے دی ہے۔ پس اگر ہم اگنی سے مراد آگ نہ لیں بلکہ پرمیشر مراد لیں تو اس ساری لطافت کی مٹی پلید ہوگی لیکن ہم کسی طرح اگنی سے