اے اگنی دیوتا اپنی چالاک اور طاقت ور گھوڑیاں جن کو بنام روہت نامزد کرتے ہیں اپنی رتھ میں جوت اور ان کے وسیلہ
یہاں دیوتاؤں کو لا۔ دیکھو وہی اشتک انو کا ۴ سکت ۳۔
اس شرتی میں شاعر نے آگ کے تیز شعلوں کو گھوڑیوں کی شکل پر تصوّر کرلیا ہے اور آگ کی صورت مجموعی کو جو افروختہ ہورہی ہے ایک رتھ قرار دے لیا ہے اور مدّعا اس کا یہ ہے کہ اس آگ سے بخار اٹھیں گے اور ہوا وغیرہ میں پہنچیں گے جیسا کہ وہ ایک دوسری شرتی میں لکھتا ہے جس کا یہی انوکا اور یہی سکت ہے۔ اے اگنی تو اندروایو پرسپتی مترا پشان پھاگا ادتیاون اور مروت کے گروہ کو نذر پیش کر۔ اندر کرہ زمہریر کا نام وایو ہوا کا نام اور باقی چاروں برسات کے مہینوں کے نام ہیں اور مروت مہینہ کی ہوائیں ہیں شاعر نے ان سب کو دیوتا مقرر کردیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اوّل حرارت سے ہی بخارات اٹھتے ہیں تو گویا اگنی بخارات کو اٹھا کر پھر انہیں اندر وغیرہ کو وہ نذر پیش کرتی ہے تمام وید میں یہی جھگڑا بار بار ذکر کیا گیا ہے کہ پہلے پہل بخارات ہوا میں مل کر اندر کے پیٹ میں پڑتے ہیں جیسا کہ اسی اشتک انوکا ۳ سکت ایک میں لکھا ہے اندر کا شکم سوم کا رس کثرت سے پینے ؔ کے باعث سمندر کی مانند پھولتا ہے اور تالو کی نمی کی مانند ہمیشہ تر رہتا ہے۔ انہیں کھانوں سے اندر کا پیٹ بھرتا ہے اور قوت حاصل ہوتی ہے۔ اے خوب صورت زنخدان والے اندر ان تعریفوں سے خوش ہو۔اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اندر کا ساقی اگنی ہی ہے اب ان