ہندوؤں کے ویدوں کی کچھ ماہیّت اور ان کی
تعلیم کا کسی قدر نمونہ
پروفیسر ولسن صاحب اپنے ترجمہ رگوید کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ رگوید کے ایک سو اکّیس منتروں میں سے جو اوّل اشتکا میں ہیں سینتیس صرف اگنی کی ہی تعریف میں ہیں یا اگنی کے ساتھ اور دیوتاؤں کی مہما ان میں درج ہے اور پینتالیس منتروں میں اندر کی مہما برنن ہے اور منجملہ باقی منتروں کے باراں منتر مروت یعنی ہوا کے دیوتاؤں کی تعریف میں ہیں جو کہ اندر کے ہمراہی ہیں اور گیارہ اسونوںؔ کی تعریف میں ہیں جو کہ سورج کے پوتر ہیں۔ چار منتر صبح کے دیوتا کی تعریف میں ہیں اور چارو سویدیوا کی تعریف میں جن کو سر بھو دیوتا بھی کہتے ہیں اور باقی منتروں میں ادنیٰ دیوتاؤں کی مہما برنن ہے۔ اس بیان سے صاف ہویدا ہے کہ اس زمانہ میں عناصر کی پرستش ہوتی تھی۔ تمّ کلامُہ
یہ پروفیسر ولسن صاحب مترجم وید کی رائے ہے جس کو انہوں نے اپنے ترجمہ رگ وید کے دیباچہ میں لکھا ہے۔ اب ہم بطور نمونہ وہ چند ُ شرتیاں رگ وید کی اس جگہ تحریر کرتے ہیں جن کی صحت کو ہم نے نہ صرف ایک کتاب سے بلکہ کئی