اے منصفین ہم نے یہ وید کا سونا آپ لوگوں کے آگے رکھ دیا ہے اب آپ لوگ
خود سوچ لیں کہ کہاں تک اس سونے میں خالصیّت بھری ہوئی ہے۔
(۴) ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری کانشنس اور نور قلب سے جو ہم کو عطا کیا گیا ہے وید کی تعلیمیں مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ ہمارا کانشنس ہرگز ان باتوں کو قبول نہیں کرتا کہ جس پر ہماری ساری زندگی کا سہارا ہے اور جو ہماری ہریک تربیت کا سرچشمہ ہے وہ ایسا کمزور ہو کہ نہ تو از خود پیدا کرسکے نہ کوئی رحمت پہنچا سکے نہ ہمیشہ کے لئے نجات دے سکے نہ توبہ و استغفار سے ہمارا گناہ معاف کرسکے۔ نہ ہماری کوششوں سے ہمیں حقیقی عرفان تک پہنچا سکے غرض کچھ بھی نہ کرسکے۔ تو پھر ایسے کا ہونا کیا اور نہ ہونا کیا۔ اگر یہی پرمیشر ہے تو حقیقت عالم بالا معلوم شد۔ ویدوں کی تعلیم پرستش اس سے بھی عمدہ تر ہے۔ کسی قوم کو مُنصف مقرر کرکے دیکھ لو کوئی شخص اس بات کا قائل نہیں ہوگا کہ وید مشرکانہ تعلیم سے خالی ہیں ہم نے ویدوں پر بہت غور کی اور جہاں تک طاقت بشری ہے ان کے معلوم کرنے کے لئے زور لگایا آخر ہم پر صاف کھل گیا کہ یہ چاروں وید پرانے مخلوق پرستوں کے خیالات کا مجموعہ ہیں اور اس زمانہ کی بناوٹ ہیں کہ جب کہ سچے قادر تک لوگوں کو رسائی نہیں ہوئی تھی پس وہ لوگ جو علم الٰہیات میں پستؔ نگاہ رکھتے تھے انہوں نے زمانہ کا الٹ پھیر اور حوادث ارضی و سماوی میں اجرام سماوی و عناصر کا بہت کچھ دخل دیکھ کر یہی اپنے دلوں میں سمجھ لیا کہ اگر کوئی ربّ العالمین و مد ّ بر عالم ہے تو یہی چیزیں ہیں ان کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ دخل در عالم سے معطل و بے کار ہے۔ سو درحقیقت نفی صفات الٰہی کرنا اور خدا تعالیٰ کو قادرانہ تصرف سے معطّل سمجھنا یہی اصل موجب دیوتا پرستی