رُوپ بن جاوے اور جو کچھ اصلی اور تفصیلی طور پر مرشد پر فیض ہوا تھا
اس پر ظلّی اور اجمالی طور پر وہی فیض ہوجائے۔ غرض تمام نقوش روحانی میں مرشد کا ایک نمونہ ٹھہرجائے یہی علّت غائی کتاب الٰہی اور رسول کی ہے تا ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوجائیں لیکن اس عرفان سے ویدؔ ہندوؤں کو جواب دے رہا ہے۔ ویدوں کے رو سے یہ بات غیرممکن ہے کہ کوئی شخص وید کی پیروی کرکے وہ سچا گیان اور عرفان پاسکے جو بقول اُن کے رشیوں کو حاصل ہوا تھا یعنی محض قیل و قال سے ترقی کرکے براہ راست خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ نصیب ہوجائے حالانکہ وید ہی اس بات کے قائل ہیں کہ بجز سچّے گیان کے مکتی نہیں ہوسکتی۔ پس اس سے ثابت ہے کہ خود وید کے اقرار سے بجز چار رشیوں کے اور کسی ہندو کو مکتی نصیب ہی نہیں۔
غرض ویدوں میں کتاب الٰہی ہونے کی یہ علامت پائی نہیں جاتی کہ حقیقی عرفان کا دروازہ نہ صرف چار مجہول الاسم شخص پر بلکہ تمام دنیا پر کھولتے ہوں پس جب کہ جس مطلب کے لئے کتاب الٰہی آیا کرتی ہے وہ مطلب ہی ویدوں سے حاصل نہیں ہوسکتا اور گنہ سے پاک ہونا صرف ہزاروں جونوں کی سزا پر موقوف ہے تو وید کس مرض کی دوا ہیں۔
(۳) ایساہی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فعل سے ویدوں کی ہدایت کچھ مطابقت نہیں
رکھتی کیونکہ زمین و آسمان پر نظر ڈالنے سے صریح ہمیں نظر آتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نہایت ہی کریم ہے اور سچ مچ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے
اس کی نعمتیں شمار سے خارج ہیں۔ مگر ویدوں کی یہ