ہیں اب اس کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آریوں کو وید کی کچھ بھی پروا نہیں وہ صرف دکھانے کے دانت رکھتے ہیں نہ کھانے کے۔ پھر سوچنا چاہیئے کہ وید کی مشرکانہ تعلیم کیسی سارے جہان میں مشہور ہورہی ہے چوداں کروڑ ہندو اس میں گرفتار ہیں جگن ناتھ اور گنگا کی طرف کیسے نعرے مارتے ہوئے ایک خلقت چلی جاتی ہے لیکن دیانند کو اسلامی توحید کا زور و شور دیکھ کر اب فکر پڑی کہ وید ہاتھ سے جاتا ہے اس کے لئے کچھ تدبیر کرنی چاہیئے مگر درحقیقت اس نے ویدوں کا کچھ ہُنر نہیں دکھلایا بلکہ کئی اور گند اس کے کھول گیا۔ انگلینڈ امریکہ جرمن فرانس میں ویدوںں کا ترجمہ ہزاروں بلکہ لاکھوں کی نظر سے گزرا ہے مگر کسی کی بلا کو بھی خبر نہیں کہ وید میں توحید بھی ہے۔ انہیں انگریزوں نے قرآن شریف کا ترجمہ کیا تو قرآنی توحید نے یورپ کے ملکوں میں ہل چل ڈال دی یہاں تک کہ لائل*صاحب اور جون ڈیون پورٹ وغیرہ نامی انگریزوں نے جن کی کتابیںؔ حمایت اسلام وغیرہ چھپ کر ہندوستان میں بھی آگئی ہیں قرآنی عظمتوں اور اس کی پاک توحید پر ایسی شہادتیں دیں کہ باوجود بہت سے موانع تعصّب کے انہیں کہنا پڑا کہ فرقان مضامینِ توحید میں اور عیوب سے منزّہ ہونے میں ایک بے مثل کتاب ہے جس کے عقائد بالکل عقل کے مطابق اور ایک حکیم کا مذہب ہوسکتا ہے۔ ایسا ہی ایک فاضل انگریز بلنٹ نام جنہوں نے حال میں اسلام کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے وہ اس بات کے قائل ہیں کہ توحید کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنے والے پیغمبر اسلام ہیں۔ انہوں نے وحدانیت الٰہی کو اس اعلیٰ درجہ پر پھیلایا ہے کہ عرب کے ریگستان میں اب تک توحید کی خوشبو آتی ہے۔