پارلیمنٹ لنڈن میں صدہا اپیل ہندوستانی عدالتوں کے انگریزی میں پیش ہوتے ہیں مگر حکّام مجوّ ز پر ہرگز یہ اعتراض نہیں ہوتا کہ تمہیں تو اردو کی ہی خبر نہیں تم فیصلہ کیا کرو گے کیونکہ جب بیانات فریقین اور گواہوں کی شہادت یا تحریری ثبوت اور ماتحت حکام کی رائیں صحیح طور پر انگریزی میں ترجمہ ہوچُکیں پھر اردو کی کیا حاجت رہی۔ سو ہم کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہی سو دائیوں کی طرح آریوں کے دل میں وہم بیٹھا ہوا ہے تو کیوں وہ بہ ثبت مواہیر اپنا نیا عقائد نامہ چھپوا نہیں دیتے جس میں بہ تفصیل لکھا جائے کہ ہم پہلے عقائد مشتہرہ سے دست بردار ہیں اور اب نئے عقیدے ہمارے یہ ہیں۔ پھر دیکھیں کہ ان عقیدوں کی بھی کیسی خبر لی جاتی ہے۔ میں قطعًاو یقیناً کہتا ہوں کہ عام ہندوؤں کا وید وید کرنا اسی زمانہ تک ہے کہ جب تک انہیں ویدوں کے مضامین کی خبر نہیں کیا خوب ہو کہ گورنمنٹ انگریزی عامہ خلائق کا دھوکا دُور کرنے کے لئے ویدوں کا تحت اللّفظ اردو ترجمہ ایک ایسی منتخب سوسائٹی سے کرا وے جس میں آریوں کے لائق ممبر بھی شامل ہوں اور چند فاضل برہمو اور انگریز بھی اس کمیٹی میں داخل ہوں اور پھر وہ ترجمہ عام طور پر ہندوؤں وغیرہ میں تقسیم کیا جائے۔ ہندوؤں کو ویدوں سے یہاں تک بے خبری ہے کہ گائے بیل کا نہ مارنا بھی ایک مذہبی عقیدہ سمجھا گیا ہے اور کھانا تو درکنار اس گوشت کا دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے حالانکہ منو شاستر جس پر پنڈت دیانند بہت سا اپنی باتوں کا مدار رکھتے ہیں بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ بیل کا گوشت کھانا نہ صرف جائز بلکہ بڑے ثواب کی بات ہے اور رگ بید اشتک اوّل میں لکھا ہے کہ