اس کی مانند کوئی بھی چیز نہیں بصارتیں اور بصیرتیں اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتیں اور
اُس کو ہریک نظر اور فکر کی حدود معلوم ہیں۔ کیا جس نے یہ کہا کہ
الجزو ۲۶۔۱ کہ میںؔ انسان سے ایسا نزدیک ہوں کہ ایسی اس کی رگ جان بھی نہیں۔ کیا جس نے یہ فرمایا کہ
الجزو نمبر ۲۵ کہ خدا وہ ہے جو ہریک چیز پر احاطہ کررہا ہے۔ کیا ایسی پاک اور کامل کی نسبت کوئی عقلمند شبہ کرسکتا ہے کہ اس نے خدا کو جسم اور جسمانی ٹھہرا کر بزمرہ عالمین داخل کردیا ہے۔ مگر جو کچھ ویدوں پر وارد ہوتا ہے میں نہیں جانتا کہ آریہ لوگ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔ ابھی ہم ذکر کرچکے ہیں کہ ویدوں کی رو سے خدا تعالیٰ ایک باریک جسم ہے جو شبنم کی طرح زمین پر گرنے کے قابل ہے اور انشاء اللہ رگوید کی اور کئی شرتیاں بھی بطور نمونہ لکھی جائیں گی اور چونکہ خداوند کریم نے لاکھوں دلوں میں ہماری نسبت اخلاص اور محبت کو ڈال دیا ہے یہاں تک کہ امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں بھی بہت سی شہرت دے کر کئی نیک خیال اور بہت عمدہ سنسکرت دان لوگوں کو اس طرف رجوع دے دیا ہے اس لئے ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ اگرچہ کچھ بھی ضرورت نہیں مگر ان دوستوں کی امداد سے اس کاگ بھاشا یعنے سنسکرت کی اصل شرتیاں اور نیز انگریزی عبارت بھی جو ویدوں کا ترجمہ ہے کبھی کبھی رسالہ میں درج ہوا کرے کیونکہ بہت سے قابل آدمی اس خدمت کے لئے بھی موجود ہیں اگرچہ ہم ایسا کرنے کو مستعد ہیں اور توفیق الٰہی نے سارا سامان اس کا مہیا کردیا ہے مگر پھر بھی آریوں پر ہرگز امید نہیں کہ وہ اپنے بدنام کنندہ تعصّب کا ُ منہ کالا کرکے انصاف کی طرف