کی اور علمیت کا یہ حال کہ یہ بھی خبر نہیں کہ عالم کسے کہتے ہیں حالانکہ عالم ایک
ایسا لفظ ہے جو ہریک فلسفی اور حکیم اس کے یہی معنے لیتا ہے اور قرآن شریف کی عام اصطلاح میں اوّل سے اخیر تک یہی معنے اس کے لئے گئے۔ اور دنیا کی تمام پابند الہامی کتابوں کے بجز نرے اندھوں کے یہی معنے لیتے ہیں۔ سو اس فاش غلطی سے آریوں کی دماغی روشنی کی حقیقت کھل گئی۔ اب ایک چُلّو پانی میں ڈوب مریں کہ ایسی فاش غلطی کھائی۔ ہم انشاء اللہ رسالہ قرآنی طاقتوں کے جلوہ گاہ میں یہ ثابت کرکے دکھلائیں گے کہ وید تو خود دشمن صفات الٰہی ہیں اور کوئی دوسری کتاب بھی ایسی نہیں جو صفات الٰہی کے پاک بیان میں قرآن شریف کا مقابلہ کرسکے۔ ہاں بائیبل میں کچھ صداقتیں تھیں مگر عیسائیوں اور یہودیوں کی خائنانہ دست اندازیوں نے ان کے خوبصورت چہرہ کو خراب کردیا۔ اب قرآن شریف کی تو یہ مثال ہے کہ جیسی ایک نہایت عالی شان عمارت ہو جس میں ہریک ضروری مکان قرینہ سے بنا ہوا ہے نشست گاہ الگ ہے باورچی خانہ الگ۔ خواب گاہ الگ۔ غسل خانہ الگ۔ اسباب خانہ الگ۔ اردگرد نہایت خوشنما باغ اور نہریں جاری اور دیانتدار خادم اورؔ محافظ جابجا موجود۔ لیکن بائیبل کی یہ مثال ہے کہ اگرچہ ابتدائی زمانہ میں کسی قدر اپنے اندازہ پر اس کی بھی عمارت عمدہ تھی ضرورت کے مکان اور کوٹھریاں اور نشست گاہ وغیرہ بنی ہوئی تھیں ایک باغیچہ بھی اردگرد تھا۔ اتنے میں ایک ایسا زلزلہ آیا کہ مکان بیٹھ گیا۔ درخت اکھڑ گئے۔ نہروں اور صاف پانی کا نشان نہ رہا۔ اور امتداد زمانہ سے بہت سا کیچڑ اور گندگی اینٹوں پر پڑگئی۔ اور اینٹیں کہیں کی کہیں سرک گئیں ۔وہ قرینہ کی عمارت