ہوکر کسی گھاس پات وغیرہ پر پھیل جاتی ہے۔ اب ہمارا اعتراض یہ ہے کہ اگر روح جسم و جسمانی چیز ہے تو اس سے لازم آگیا کہ بموجب ہدایت وید پرمیشر بھی ضرور جسم و جسمانی ہوگا۔ اور وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوکر زمین پر گرنے اور کھائے جانے کے قابل ہے شائد اسی خاصیّت کے رو سے اندر پرمیشر کی روح زمین پر گر کر کوسیکارشی کی جو رو کے پیٹ میں جا ٹھہری تھی جس کی نسبت رگوید اشتک اول میں صاف صاف یہی بیان درج ہے۔ اب اے آریہ! مبارک باد کہ تمہارے پرمیشر کی ساری حقیقت کھل گئی اور خود دیانند کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تمہارا پرمیشر ایک دقیق جسم ہے جو دوسری روحوں کی طرح زمین پر گرتا اور ترکاریوں کی طرح کھایا جاتا ہے تب ہی تو وہ کبھی رام چندر بنا اور کبھی کرشن اور کبھی مچھ اور ایک مرتبہ تو خوک یعنی سُور بن کر اور خوکوں کے موافق غذائیں لطیف کھا کر اپنے درشن کرنے والوں کو خوش کردیا۔ تعجب کہ جن کے پرمیشر کا یہ حال ہو وہ قرآن شریف پر اعتراض کریں کہ اس میں ایسی کوئی آیت نہیں کہ خدا تعالیٰ کو جسم و جسمانی ہونے سے پاک قرار دیتی ہو حالانکہ قرآن شریف کیؔ پہلی آیت ہی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جسم اور جسمانی ہونے سے پاک ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏ عنے خدا ہی کو سب تعریف اور حمد اور مدح ہے وہ کیسا ہے! تمام عالموں کا ربّ ہے جس کی ربوبیت ہریک عالم کے شامل حال ہے۔ اب ظاہر ویدوں میں اس بات کا بہت تذکرہ ہے کہ پرمیشر کی روح اور دوسری چیزوں کی روح متّحد الحقیقت ہیں۔ چناچہ یجر وید میں ایک شرتی یہ ہے منش کی آتما (روح) کہتی ہے کہ وہ پرمیشر جو سورج میں ہے میں ہی ہوں۔ دیکھو یجز وید