اگر وید کی بزرگی ثابت کرنی ہے اور ربّانی کلام ہونے کا ثبوت اس میں دکھلانا ہے تو اس کی ایسی ذاتی خوبیاں اور اندرونی خاصیتیں اور برکتیں دکھلاؤ جن کی وجہ سے وہ ایسا بے نظیر ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ بے نظیر ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہے اس کی مثل بنانے پر کوئی بشر قادر نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ ایک مکھی کے بنانے سے بھی تمام مخلوق عاجز ہے۔ دوسرے ہمیںؔ یہ بھی صریح نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف اپنے قول میں نہیں بلکہ اپنے فعل میں بھی اپنے ارادوں کو ظاہر کیا ہے۔ سو قول اور فعل کا تطابق بھی ضروری ہے۔ تیسرے ہم یہ بھی وجدان کے طور پر پاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک اور کامل صفتوں کی طرف ہمیں بھی ایک روحانی میلان بخشا ہے یا یوں کہو کہ باطنی طور پر ایک قوّت حاسّہ ہمیں عطا کی گئی ہے جس سے ہم فی الفور معلوم کرجاتے ہیں کہ کون سی صفات خدا کی شان کے لائق ہیں اور کون کون سی صفتیں منافی شان الوہیّت ہیں سو ربّانی کلام کی شناخت کرنے کے لئے یہی تین علامتیں ہیں مگر کیا یہ علامتیں ویدوں میں پائی جاتی ہیں۔ ہرگز نہیں۔ پنڈت دیانند جنہوں نے نرکت اور نکھٹو کی معتبر کتب کا چھان بین کیا ہے ان کو وید کا یہ خلاصہ ہاتھ لگا کہ جس چیز کو پرمیشر کہا جاتا ہے وہ کروڑہا قدیم اور انادی اور غیر مخلوق وجودوں میں سے ایک وجود ہے جو وجوب ہستی میں ان سے مساوی اور قدیم ہونے میں ان کے برابر اور باعتبار وجودی انتشار کے ان سے نہایت کم ہے اب ہم دیانند کو آفرین نہ کہیں تو اور کیا کہیں جس نے ویدک توحید ایسی ثابت کی کہ پُورا نے مشرکوں کے بھی کان کاٹے۔ کیونکہ گو قدیم مشرک ویدوں کے ماننے والے اب تک یہ تو مانتے آئے تھے کہ ہمارے ویدوں میں سورج چاند