اور مبالغہ کرنا شاید ان کے مذہب میں ثواب میں داخل ہے کیونکہ کوئی قول و فعل ان کا دروغ گوئی یا بیہودہ مبالغات سے خالی نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ مہا بھارت۔ رامائن۔ بھاگوت۔ منو شاستر اور دوسرے پرانوں اور خود ویدوں کے پڑھنے سے یہ عادت ان کی صاف ثابت ہوتی ہے۔ بالآخر اگر ہم اس قدر صاف اور روشن ثبوتوں سے قطع نظر کرکے فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ وید کسی قدر پرانے ہیں تو کیا بغیر ثابت ہونے ذاتی خوبیوں کے صرف کسی قدر پرانا ہونا ان کو خدا تعالیٰ کا کلام بنادے گا ہرگز نہیں۔ ظاہر ہے کہ بزرگی بعقل است نہ بسال۔ حکماء جنہوں نے علمؔ حیوانات میں تحقیق کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ سنگ پشت یعنی کچھوے کی عمر بڑی ہوتی ہے یہاں تک کہ بغیر کسی خارجی صدمہ کے شاذ و نادر مرتا ہے۔ بہت کچھوے ایسے ہوں گے کہ جو ابتدائی زمانہ میں پیدا ہوکر اب تک زندہ موجود ہیں۔ پس اگر ویدوں کی قدامت بغیر ثبوت ان کے اندرونی کمالات کے تسلیم بھی کرلی جائے تو غایت درجہ ان کا چنانچہ تشریح اس کی وہ یوں لکھتے ہیں کہ ہر بید میں علم ہیئت کا ایک ایک رسالہ اس غرض سے لگا ہوا ہے کہ پتری کی ترتیب معلوم ہووے۔ اور اس سے فرائض منصبی کے اوقات دریافت ہوجایا کریں۔ پس وہ صریح اور قطعی دلیل جس پر انہوں نے اپنی مذکورہ بالا رائے قائم کی ہے یہ ہے کہ جو مقام راس سرطان اور راس جدی کا اس رسالہ میں قرار دیا ہے وہ وہی مقام ہے جو چودھویں صدی قبل از سنہ عیسوی میں ان دونوںؔ راسوں کا تھا۔ پس کچھ شک نہیں کہ بیدوں کی تالیف اسی زمانہ میں ہوئی تھی۔ (ماخوذ از تاریخ ہند مؤلفہ الفنسٹن صاحب)