زیادہ وقعت نہیں رکھتے وہ اپنے بدھ شاستر (ادھیائے ۲ سوترا) میں فرماتے ہیں کہ وید پرمیشر کا کلام نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کے زمانہ کی تاریخ جو بیان کی گئی ہے وہ بالکل خلاف واقع اور جھوٹ ہے اور نیز ان میں کلام الٰہی ہونے کا کوئی نشان پایا نہیں جاتا اور ان کے مطالب و مضامین خلاف عقل ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ بدھ جی جیسے نامی پنڈت سے بڑھ کر جن کی بزرگی کے پچاس کروڑ کے نزدیک لوگ قائل ہورہے ہیں اور کون سی شہادت ہے اور اگر ہے تو وہ پیش کرنی چاہئے۔ ویدوں کو ابتدا سے کسی آریہ دیس کے دانا نے تسلیم نہیں کیا اور ہر چند ظالم برہمنوں نے اس مطلب کے حصول کے لئے ہزارہا خون بھی کئے (جیسا کہ شاستروں سے ظاہر ہے) لیکن ان نیک خیال ہندوؤں نے بڑی استقامت سے جانیں دیں مگر وید کی مشرکانہ تعلیموں کو قبول نہ کیا۔ صرف ویدوں کے نہ ماننے کی وجہ سے ہزاروں محقّقوں اور عارفوں اور دانشمند آریوں کے سر کاٹے گئے اور شریر برہمنوں نے ایسے ایسے نیک دل اور پاک خیال لوگوں کو قتل کیا جن کی اس گروہ میں نظیر ملنا مشکل ہے اگر ویدوں میں کچھ سچائی ہوتی تو شریف آریہ جو دانشمند اور فلاسفر تھے کیوں ویدوں سے اس قدر بیزار ہوجاتے کہ ایک ایک ہوکر مارے گئے مگر ویدوں کو قبول نہ کیا۔ اگر ویدوں کی کسی ایک آدھ شرتی سے یہ مضمون بھی نکلتا ہو کہ وہ پرانی ہیں تو قابل تسلیم نہیں کیونکہ دعویٰ بلا دلیل ہے جس کو دوسری شرتیاں خود رد کرتی ہیں۔ اورؔ اگر یہ کہو کہ منوجی ویدوں کو کسی قدر پرانا ہی ٹھہراتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے دلیل گواہی منوکی ہو یا غیرمنوکی وہ قابل اعتبار نہیں اور پھر سمجھنا چاہئے کہ بدھ جی کے مقابل پر منوجی کی حیثیت کیا ہے کیا کچھ بھی شرم نہیں آتی۔