ہندوؤں کے لئے بات کرنے کے لئے ایک گنجائش نکل آئے گی بہرحال اب ہمارے مُخالف آریہ اس تجویز کو خواہ منظور کریں یا نہ کریں لیکن یاد رکھیں کہ اگر فیصلہ منظور ہے تو ہزار بل پھیر کھا کر آخر اِسی راہ پر قدم مارنا پڑے گا۔ ہندی مثل مشہور ہے سر جُٹے اور کوڑ نکھٹے جلسہ عام میں نمونہ مذکورہ کی قسم کھا لینا بس حد ہے جس سے فیصلہ ہوجائے گا ورنہ کس قدر حیا اور شرم سے دور ہے کہ محض جھوٹے افتراؤں کے ذریعہ سے کوشش کی جائے کہ تمام الہامات فن و فریب سے بنائے جاتے ہیں خیال کرنا چاہئے کہ اس بھلے مانس ہندو نے اپنے اس رسالہ میں جس کا نام فن و فریب غلام احمد کی کیفیّت رکھا ہے کس قدر دروغ بے فروغ کی اپنے دل سے ہی عمارت بنا لی ہے جس کو وہ اپنے اس رسالہ کے صفحہ ۲۴ میں لکھتا ہے چنانچہ بجنس عبارت اُس کی ذیل میں درج کی جاتی ہے۔
اب تازہ الہام سُنئے قادیان میں جان محمد کشمیری مرزا کی مسجد کے امام کا پانچ سالہ لڑکا سخت بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگیا تھا اُس وقت کی حالت زار دیکھ کر بیوقوف سے بیوقوف اُس کو کوئی دم کا مہمان جانتا تھا اس حال پر اختلال میں امام صاحب مرزا کے پاس گئے اور مرزا پہلے اس لڑکے کو بچشم خود بھی دیکھ چکا تھا۔ امام صاحب نے کل حال مکرر عرض کرکے کہا کہ آپ مجیبُ الدّعوات ہیں (اس لفظ سے اس ہندو کی لیاقت علمی ظاہر ہے) دُعا کیجئے۔ مرزا نے فرمایا کہ آپ کے آنے سے اول ہی الہام ہوا کہ اس لڑکے کے لئے قبر کھودو۔ مرزا کے مونہہ سے یہ کلمہ نکلنا ہی تھا کہ امام صاحب کے ہوش باختہ ہوگئے۔ واقعی کیوں نہ ہوتے کہ فقط یہی ایک لڑکا تھا وہ بھی پچھلی عمر کا مرزا تو نیم حکیم خطرہ جان ہی تھا۔ مگر خدا بھی جھوٹوں کو جھوٹا کرنے کے لئے