نمبر نام آریہ وہی آریہ کس الہام یا کشف کا گواہ ہے۔ ہوا تھا کہ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَاءِکَ اِلَّا فِیْ شُرَکَاءِکَیعنی میں تیری ساری دعائیں جو تو نے کیں قبول کروں گا۔ پر شرکاء کے بارے میں نہیں۔ سو آخر اس مقدمہ میں شرکاء کو فتح ہوئی۔ اوّل اوّل تو ابتدائی عدالتوں میں شرکاء مغلوب رہے پر آخر چیف کورٹ میں قطعی طور پر فتح پاگئے شاید پچاس سے زیادہ لوگوں کو اس الہام کی خبر ہوگی اور منجملہ ان کے یہ لالہ صاحب بھی ہیں جن کو شروع مقدمات کے ابتدا میں ہی یہ الہام سنا دیا گیا تھا۔ پانچویں ایک مرتبہ مسجد میں بوقت عصر یہ الہام ہوا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔ یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔ اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔ ہرچہ باید نو عروسے راہماں سامان کنم و آنچہ مطلوب شما باشد عطائے آں کنم اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی تعلقؔ بخشا سو قبل از ظہور یہ تمام الہام لالہ شرمپت کو سنا دیا گیا پھر بخوبی اسے معلوم ہے کہ بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب سید سندی جو خواجہ میر درد صاحب مرحوم دہلوی کے روشن خاندان کے یادگار ہیں جن کے علوّ خاندان کو دیکھ کر بعض نوّابوں نے انہیں لڑکیاں دی تھیں جیسے نواب