اب ہم اس موقع پر ان چند آریہ صاحبوں کا نام درج کرتے ہیں جو ہماری بعض الہامی پیش گوئیوں کے گواہ ہیں۔ یوں تو ظاہر ہے کہ آج کل بباعث ایک تعصّبیآگ کے بھڑکنے کے جو آریوں کو پیروں سے لے کر دماغ تک جلارہی ہے ایسی اس قوم کی ایک دفعہ حالت بدل گئی ہے کہ اگر کسی قدر شریف آدمی بھی ان میں ہیں تو وہ بھی کھڑپنچوں کے شوروغوغا کے خوف سے دبے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ایمانی قوت تو رکھتے ہی نہیں کہ تا ان بک بک کرنے والوں کی لعن و طعن کی کچھ پروا نہ رکھیں بلکہ ایک ہی دھمکی سے مثلاً اسی قدر کہنے سے کہ برادری سے نکالے جاؤ گے لڑکے لڑکیاں بیاہی نہیں جائیں گی۔ رشتے ناطے سب چھوٹ جائیں گے لالہ صاحبوں کے رنگ زرد اور بدن پر لرزہ شروع ہوجاتا ہے اور پھر تو وہ حالت ہوجاتی ہے کہ جس قدر کسی مسلمان پر تہمت بہتان الزام لگانا چاہیں یا جو کچھ افترا پردازوں کی طرف اشتہار وغیرہ کے چھپوانے کی تجویز ہو جھٹ پٹ دستخط کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں اسی ترکیب سے آج کل قادیان کے ہندو اشتہارات جاری کررہے ہیں۔ ایں نہ از خود ہست جوش جان شان دست کھڑ پنچاں کشد دامان شان غرض یہ لوگ جو سراسر افترا کے طور پر اشتہارات جاری کرتے رہتے ہیں اور پھر ان میں اکثر گندے لفظ اور گالیاں بھی دیتے ہیں تو دراصل اس کا یہی باعث ہے کہ وہ اپنے خواہ نخواہ کے جمعداروں پر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم سچے دل سے مسلمانوں کے ذاتی دشمن ہیں اور