جانتے ہیں کہ آج کل آریوں کے اجتماعی جوش نے جو افاقۃ الموت کی طرح آخری دم میں ان میں پیدا ہوگیا ہے بے طرح انہیں بے خوف اور چالاک کر رکھا ہے جس سے وہ اپنے پرمیشر کے پرمیشر پن کو ہی جواب دیئے جاتے ہیں۔ اور راست گوئی اور حیا اور شرم سے بھی فارغ ہوبیٹھے ہیں لیکن چونکہ سچائی ایک ایسی چیز ہے جو کسی نہ کسی حکمت عملی سے اپنا چہرہ نورانی دکھا ہی دیتی ہے۔ اس لئے آخر ہمیں بھی سوچتے سوچتے ایک تدبیر چور پکڑنے کی سوجھ گئی اور وہ یہ ہے کہ اسی رسالہ میں ایک فہرست ایسی پیش گوئیوں کی جن کے آریہ لوگ گواہ ہیں لکھی جائے اس طرح پر کہ اول نمبر شمار اور پھر نام آریہ اور پھر بمحاذی ہریک نام کے جدا جدا ان پیشگوئیوں کی تفصیل لکھی جائے جن کے وقوع کا گواہ وہ آریہ ہو جس کا محاذات میں نام درج ہو اور پھر ایسے نقشہ اسم وار کے شائع ہونے کے بعد جو ابھی لکھا جاتا ہے قادیان کے آریوں پر جو فساد پھیلانےؔ کی جڑہیں فرض ہوگا کہ اگر وہ حقیقت میں ہمیں فریبی سمجھتے ہیں تو اسی قادیان میں ایک جلسہ عام میں ایک ایسی قسم کھا کر جو ہریک شہادت کے نیچے لکھی جائے گی ان الہامی پیش گوئیوں کی نسبت لاعلمی ظاہر کریں۔ تب ہم بھی ان کا پیچھا چھوڑ دیں گے اور اس قادر مطلق کے حوالہ کردیں گے جو دروغ گو کو بے سزا نہیں چھوڑتا اور بے عزتی سے اپنے مالک کے نام لینے والے کو ایسا ہی بے عزت کرتا ہے جیسا کہ وہ جھوٹی قسم اللہ جل شانہٗ کی کھاکر اس ذوالجلال کی عزّت کی کچھ پرواہ نہیں کرتا لیکن اگر اب بھی آریوں نے یہ کھلا کھلا فیصلہ نہ کیا اور صرف جعل سازی کی اوٹ میں دور سے تیر مارتے